Swat

انجینئر امیر مقام کی کمپنی میں کروڑوں کا گھپلا کرنے والا ملازم گرفتار

(باخبر سوات ڈاٹ کام) انجینئرامیرمقام کی کمپنی کا چیک بک چراکر کروڑوں روپے کا گھپلا کرنے کی کوشش میں ملوث ملزم عنایت الرحمان ولد عزیزالرحمان سکنہ الپورئی شانگلہ کو گرفتار کرلیا گیا۔ وفاقی وزیر برائے سیفران و امور کشمیر انجینئر امیر مقام کی کمپنی کا چیک بک چرا کر کمپنی کے اکاونٹ سے انجینئر امیر مقام کے جعلی دستخط کے ذریعے 4 کروڑ 70 لاکھ روپے ملزم عنایت الرحمان اپنے ذاتی اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کرنا چاہ رہا تھا۔ اسلام آباد پولیس نے انجینئر امیر مقام کے سابق پرائیویٹ سیکرٹری عنایت الرحمان ولد عزیز الرحمان سکنہ الپوری شانگلہ کو گرفتار کرلیا۔ ملزم کے خلاف کمپنی منیجر نے پولیس کو درخواست دی تھی۔ ذرائع کے مطابق ملزم عنایت الرحمان جو کہ وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام کے سابق پرائیویٹ سیکرٹری تھے اور پی این سی اے میں ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے کچھ عرصہ قبل انجینئر امیر مقام نے انھیں عوامی شکایات اور گھپلوں میں ملوث ہونے کی شکایات پر نکالا تھا، جس کے بعد 13 اور 17 اگست کو بنک آف خیبر اسلام آباد ایف 10 برانچ اور خیبر بنک الپوری سے انجینئر امیر مقام کو چیک کنفرمیشن کے لئے کالیں آئیں، تاہم انجینئر امیر مقام کی جانب سے کال اٹینڈ نہ کرنے پر مذکورہ بنکوں کے منیجر نے انجینئر امیر مقام کی کمپنی کے منیجر مشتاق احمد کو کال کی اور ان سے پوچھا کہ انجینئر امیر مقام کے دستخط سے چیکس بالترتیب دو کروڑ بیس لاکھ، دو کروڑ اور پچاس لاکھ کے ان کے پاس کیش ہونے کے لئے آئے ہیں۔ کیا یہ چیک امیر مقام صاحب نے دیے ہیں۔کمپنی منیجر نے جواباً انجینئر امیر مقام سے رابطہ کیا، تو انجینئر امیر مقام نے کہا کہ انہوں نے ایسے کوئی چیک ایشو نہیں کئے اور نہ دستخط ہی کئے ہیں۔ جس پر کمپنی منیجر نے بنک کو آگاہ کیا کہ یہ کوئی جعل ساز ہے۔ بعد ازاں کمپنی کے ذمہ دار اسسٹنٹ اکاؤنٹینٹ عثمان کو خیبر بنک ایف 10 برانچ بھیجا گیا، جہاں سی سی ٹی وی فوٹیج چیک کرنے پر پتا چلا کہ عنایت الرحمان نامی نوجوان نے یہ کام کیا ہے۔ پولیس نے عنایت الرحمان کو گرفتار کرکے پوچھ گچھ شروع کر دی ہے۔

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں