پروفیسر احسان اللہکالم

جھوٹی خبروں کا طوفان

دنیا بھر میں اس وقت تقریباً 56 مسلم ممالک موجود ہیں، لیکن اُن میں پاکستان وہ واحد اسلامی ریاست ہے، جو ایٹمی طاقت رکھتی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو پاکستان کے دشمنوں کو کھٹکتی ہے۔ وہ ہمیشہ سے اس کوشش میں ہیں کہ کسی نہ کسی طریقے سے پاکستان کو سیاسی، معاشی، سماجی اور عسکری طور پر کم زور کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے اب جدید ترین ہتھیار استعمال ہو رہا ہے…… اور وہ ہے سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کا غلط استعمال۔
مخالف قوتیں پاکستان کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کرتی ہیں…… اور بدقسمتی سے ہمارے ہی لوگ بغیر تحقیق کیے اُن جھوٹی خبروں کو سوشل میڈیا، واٹس ایپ، فیس بک، یوٹیوب اور ٹیلی وِژن چینلوں کے ذریعے پھیلا دیتے ہیں۔ یہ غیر ذمے دارانہ رویہ ریاست، اداروں اور معاشرے کے لیے نہایت خطرناک بن چکا ہے۔
آج ہر فرد سوشل میڈیا پر خود کو صحافی، تجزیہ نگار، اینکر اور مفتی سمجھ کر جو چاہے لکھ دیتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے کارکنان مخالف جماعتوں پر، حتیٰ کہ قومی اداروں پر بھی سنگین الزامات لگاتے ہیں۔ ہر روز فیس بک، ٹوئٹر اور یوٹیوب پر گالم گلوچ، جھوٹے دعوے اور اخلاق باختہ تبصرے دیکھنے کو ملتے ہیں۔
سوشل میڈیا کے مثبت فوائد سے انکار ممکن نہیں، لیکن ہمارے معاشرے میں تعلیم، تربیت اور شعور کی کمی کے باعث اس کا منفی استعمال بہت بڑھ چکا ہے۔ فیس بک پر بعض نامعلوم اکاؤنٹس سے عزت دار شخصیات کے خلاف کرپشن، بداخلاقی، رشوت، شراب نوشی اور دیگر من گھڑت الزامات پر مبنی پوسٹس لگائی جاتی ہیں۔ پھر جب عام سادہ لوح افراد اُنھیں دیکھتے ہیں، تو فوراً منفی رائے قائم کرکے وہی بات آگے پھیلا دیتے ہیں۔
یہ لوگ قرآنِ مجید کے حکم پر عمل نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ سورۃ الحجرات، آیت نمبر 6میں فرماتا ہے: ’’اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمھارے پاس کوئی خبر لائے، تو تحقیق کرلیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی سے نقصان پہنچا دو، پھر تمھیں اپنے کیے پر ندامت اٹھانی پڑے۔‘‘
سوال یہ ہے کہ اگر کسی شخص میں واقعی وہ تمام خامیاں موجود ہوں، جو اوپر ذکر کی گئی ہیں، تو کیا دوسرے شخص کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر ان گناہوں کو دوسروں کے سامنے لائے؟ حدیثِ نبویؐ ہے: ’’جس نے کسی مسلمان کے عیب پر پردہ ڈالا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اُس کے عیب پر پردہ ڈالے گا۔‘‘(صحیح مسلم)
اور اگر کوئی شخص بہ ضد ہو کہ وہ ضرور دوسروں کے خلاف پوسٹس لگائے گا، تو کم از کم اسے چاہیے کہ یہ کام چھپ کر یا جعلی نام سے نہ کرے، بل کہ اپنا اصل نام اور مکمل پتا ظاہر کرے۔ یہ طرزِ عمل اکثر بلیک میلنگ کے زمرے میں آتا ہے۔
مشاہدے میں آیا ہے کہ بعض اوقات کوئی شخص قانون، میرٹ اور اُصولوں کے مطابق فیصلہ کرتا ہے، تو بہت سے لوگ اس کے خلاف ہوجاتے ہیں…… یا اگر کسی تعلیمی ادارے میں پرنسپل یا اُستاد نے کسی شاگرد کے غلط عمل پر تادیبی کارروائی کی ہو، تو وہی شاگرد فیک اکاؤنٹس سے استاد کے خلاف زہر اگلتے ہیں…… لیکن جب تحقیق کی جائے، تو تمام الزامات جھوٹ اور من گھڑت نکلتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں جھوٹ اور افواہوں کے باعث کئی بار سنگین نتائج سامنے آچکے ہیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ فروری 2005ء میں ضلع کرک میں کسی نے لاؤڈ اسپیکر سے اعلان کر دیا کہ رات زلزلہ آنے والا ہے۔ یہ جھوٹی خبر پورے صوبے میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ لوگ رات بھر کھلے آسمان تلے بیٹھے رہے۔ نتیجتاً چوروں نے گھروں کا صفایا کر دیا اور صبح ہونے پر معلوم ہوا کہ یہ محض ایک افواہ تھی۔
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ سنی سنائی بات کو (بلا تحقیق) آگے بیان کر دے۔‘‘ (صحیح مسلم)
ایک چبھتا ہوا سوال یہ بھی ہے کہ احتجاجی مظاہرے پُرتشدد کیوں ہو جاتے ہیں؟ اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ لوگ سوشل میڈیا پر جذباتی اور اشتعال انگیز مواد دیکھ کر سڑکوں پر نکل آتے ہیں، بغیر اس کے کہ اصل حقیقت کو جانچیں۔
دوسری جانب بعض ممالک جیسے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں میڈیا پر سخت کنٹرول ہے۔ وہاں اگر کوئی شخص حکومت یا ریاستی اداروں کے خلاف بات کرے، تو فوری کارروائی کی جاتی ہے، جب کہ پاکستان میں ’’آزادیِ اظہار‘‘ کے نام پر ہر حد پار کرلی گئی ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر سوشل میڈیا کے لیے ضابطۂ اخلاق مرتب کرے، فیک اکاؤنٹس بند کرے اور قانون شکنی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائے۔ تمام سوشل میڈیا کمپنیوں کو چاہیے کہ جو شخص اکاؤنٹ بناتا ہے، اُس سے مکمل پتا اور موبائل نمبر حاصل کیا جائے، تاکہ اُس کا سراغ لگایا جاسکے۔
میرے خیال میں کوئی بھی حرکت حکومتی خاص اداروں کی دسترس سے باہر نہیں۔ انھیں چاہیے کہ وہ فیک اکاؤنٹس بند کریں اور جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کو سخت سے سخت سزائیں دیں۔
والدین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں۔ آج کل یوٹیوب اور فیس بُک پر ایسے مقامی پروگرام دست یاب ہیں، جن میں فحاشی، گالم گلوچ اور بے حیائی عام ہے۔ یہ مواد بچوں اور نوجوانوں کے ذہن پر نہایت منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ موبائل فون پر کی جانے والی ہر سرگرمی کی ہسٹری محفوظ رہتی ہے، جو کل کو آپ کے خلاف ثبوت بن سکتی ہے۔ ایف آئی اے اور دیگر متعلقہ ادارے اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ملک اس وقت سیاسی، معاشی اور سماجی بحرانوں میں گھرا ہوا ہے۔ اگر ہم نے سوشل میڈیا کو منفی پروپیگنڈے کا ذریعہ بننے دیا، تو دشمن کے عزائم پورے ہوجائیں گے۔ حکومت کو چاہیے کہ عوام کو سوشل میڈیا کے منفی استعمال سے روکے اور مثبت استعمال کا شعور دے۔
اگر ہم سب نے مل کر اپنی ذمے داری ادا کی، تو ان شاء اللہ وہ دن دور نہیں، جب پاکستان ایک پُرامن، خوش حال اور باوقار ریاست کے طور پر دنیا کے سامنے ہوگا۔

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں