(باخبر سوات ڈاٹ کام) مینگورہ کے ایک مقامی ہوٹل میں ٹریڈرز فیڈریشن اور سوات چیمبر آف کامرس کے زیر اہتمام ملاکنڈ ڈویژن میں کسٹم ایکٹ اور انکم ٹیکس کے نفاذ کے خلاف ایک گرینڈ جرگہ منعقد کیا گیا۔ گرینڈ جرگے سے صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد، تاجر برادری کے صدر عبدالرحیم، سابق میئر مردان حمایت اللہ مایار، مقامی تڑون جرگہ کے اسحاق زاہد، مسلم لیگ (ن) کے واجد علی خان، قومی وطن پارٹی کے فضل رحمان نونو، سابق میئر مینگورہ شاہد علی خان، سینئر صحافی ڈاکٹر محبوب علی، جماعت اسلامی کے امیر محمد امین، ملاکنڈ چیمبر آف کامرس کے انعام خان، باجوڑ چیمبر آف کامرس کے لعلی شاہ، خالد محمود گجر، جے یو آئی کے محمد اعجاز خان، پی ٹی آئی پی کے صوبائی صدر حبیب علی شاہ، ملک اکرم خان، اے این پی کے شیر شاہ خان، سوات چیمبر آف کامرس کے صدر نور محمد خان اور ترجمان یوسف علی خان نے خطاب کیا۔ جرگے میں مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں، سماجی تنظیموں کے رہنماؤں، تاجر برادری اور صحافیوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں کسٹم ایکٹ اور انکم ٹیکس کو مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیلز ٹیکس میں اضافہ اور دو فیصد انکم ٹیکس بھی قابل قبول نہیں۔ کیونکہ عوام، تاجروں اور صنعت کاروں پر مزید مالی بوجھ برداشت کرنا ممکن نہیں رہا۔ اتوار کے روز نشاط چوک میں احتجاجی جلسہ منعقد ہوگا، جس کے بعد تحریک کو تحصیل سطح اور ڈویژن کے دیگر اضلاع تک وسعت دی جائے گی۔ اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد نے کہا کہ ہم ملاکنڈ ڈویژن میں وفاقی ٹیکس اور انکم ٹیکس کو مسترد کرتے ہیں اور علاقے کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر آئینی اور جمہوری فورم پر آواز اٹھائیں گے اس کے لئے اگر اسمبلیوں سے استعفی بھی دینا پڑیں، تو دریغ نہیں کریں گے۔
Swat
