الیکشن 2018ء جیسے تیسے ہوگیا، جس قسم کے نتائج متوقع تھے، وہی سامنے آگئے۔ وہ مشہور ’’مقولہ‘‘ ہے: ’’ڈگری ڈگری ہوتی ہے، خواہ جعلی ہو یا اصلی۔‘‘ سو ’’جیت، جیت ہوتی ہے، خواہ جعلی ہو یا اصلی۔‘‘ عمران صاحب جیت گئے یا جتوائے گئے لیکن جو کچھ ہوا اچھا ہوا، کم از کم اس بار یہ تو ہوجائے گا کہ سال ڈیڑھ سال میں اُس لیڈر اور پارٹی کا سیاسی طور پر دیوالیہ نکل جائے گا جو ایک عرصے سے بہت اچھل کود کر رہی ہے اور اقتدار کے لیے تمام انسانی اور اخلاقی اقدار کو پاؤں تلے روندنے کو ہر وقت تیار رہتی تھی۔ اب ان کو پارلیمان مقدس نظر آئے گا، جو پہلے لعنتی تھا۔ اب ان کو سیاسی برد باری، صبر، برداشت کی اہمیت واضح ہوجائے گی۔ اب تو اقتدار کی رسیوں سے تحریک انصاف اور عمران کے ہاتھ پیر باندھ دیے جائیں گے جب کہ ن لیگ، پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمان کی رسیاں کھول دی جائیں گی۔ وہ دھما چوکڑی اور شور شرابا شروع ہو جائے گا کہ اقتدار کے مزوں، چرچوں کے ساتھ ساتھ عمران خان اور اُس کے ٹولے کے چودہ طبق روشن ہوجائیں گے۔
دوسری جانب عوام نے ان سے بہت سی توقعات باندھ رکھی ہیں۔ اب بجٹ اور پیسوں کا رونا رویا جا رہا ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ اور اخراجات نیز ادائیگیوں کے لیے بارہ ارب ڈالر کی فوری ضرورت ہے، جب کہ سعودی عرب، چین، ورلڈ بنک، اسلامی بنک سے چھپکے چھپکے پسِ پردہ رابطے کیے جا رہے ہیں۔ متوقع وزیر خزانہ اسد عمر صاحب مسلسل بیانات دے رہے ہیں کہ حکومت کے سودن کے پلان پر مشکل ہے کہ عمل درآمد ہو۔ معاشی بحران شدت اختیار کر رہا ہے۔ انٹرنیشنل مانیٹرنگ فنڈ (IMF) کی شرائط سخت ہیں۔ نیز امریکہ نے ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کو قرض دینے سے منع کیا ہوا ہے۔ اوپر سے عمران خان کی آئی ایم ایف کے خلاف ہر زہ سرائیاں اور چیخ و پکار سے اب بھی ماحول میں گونج رہا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ باتیں اور سچائیاں پہلے عوام کو کیوں نہ بتائی گئیں۔ کیا اسد عمر صاحب کو پاکستان کے معاشی بحران کا پتا نہیں تھا؟ بلکہ یہ لوگ تو اپنے بیانات سے یہ تاثر دے رہے تھے کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ بس نواز شریف نے ہر چیز اور ہر منصوبے کا اور اس ملک کا ستیاناس کیا ہوا ہے۔ اگر وہ ہٹ گیا اور ہم آگئے، تو سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہوجائے گا۔ تو اب کیا ہوا؟ اب تو کوئی بہانا نہیں چلے گا اور نہ عوام کو اب تیری معاشی سنجیدہ اور پیچیدہ باتیں سمجھ آئیں گی۔ انہیں تو اب اپنے مسائل کا حل چاہیے۔ جیسے بھی ہو اور جہاں سے بھی ہو سب معاملات اور مشکلات حل فرمائیں۔ پچاس لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریاں، ایک جیسا نظامِ تعلیم، صحت کی بنیادی سہولیات، تمام ملک کو صحت کارڈ کی فراہمی، کرپشن کا خاتمہ، سو فیصد ٹیکس کا حصول، بیرونی تمام بنکوں سے چوری کا پیسہ واپس لانا، بلا تفریق کڑا احتساب، آئین و قانون کی بالادستی، امن وامان کا قیام اور تحریک انصاف کا بہت بڑا مقصد اور مطلب کہ ہر پاکستانی کو عدل و انصاف مہیا کرنا ایک بنیادی ذمہ داری ہے۔ اُمید ہے کہ یہ حکومت احسن طریقے سے، خلوصِ نیت کے ساتھ ان تمام ذمہ داریوں سے نبٹ لے گی اور اس ملک میں ہر طرف ایک حقیقی تبدیلی کی ہوائیں چل پڑیں گی۔ وہ تبدیلی جو صرف نعروں سے نہیں بلکہ ہر شہری اسے محسوس کرے اور درو دیوار گونج اُٹھیں کہ ’’تبدیلی آ نہیں رہی، تبدیلی آگئی ہے۔‘‘
لیکن ہمیں معلوم ہے کہ کچھ بھی نہ ہوگا۔ چند اصلاحات، چند خوبصورت نعرے اور خوش نما وعدے، باقی بہانے اور مجبوریاں، نیز دوسروں کے اوپر الزامات تھوپنے، برا بھلا کہنے اور سننے کی کہانیاں چلتی رہیں گی۔ عوام کو صبر و برداشت کی تلقین کی جائے گی اور کبھی کبھی کڑوی گولی نگلنے کے لیے ان پر ایسے داؤ پیچ استعمال کیے جائیں گے جیسے ایک بچے کو مختلف حیلے بہانوں اور جھوٹے وعدوں پر کڑوی دوا پلائی جاتی ہے۔
پاکستان میں سرمایہ دارانہ نظام ہے۔ دیہاتوں میں ہم اب بھی جاگیرداری نظام اور جاگیر داری سوچ سے باہر نہیں نکلے۔ یہاں اب بھی پارٹی کی جیت پر تمام رات ہوائی فائر کیے جاتے ہیں، گولیاں چلائی جاتی ہیں، خوف و ہراس پھیلایا جاتا ہے، عوام، بچوں اور بیماروں کے آرام میں خلل ڈالا جاتا ہے۔ کدھر ہے انصاف و قانون؟جس کی حکومت آئی، اس نے قانون کو ہاتھ میں لیا۔ تھانہ پولیس خاموش، سکیورٹی ادارے جہاں ایک فائر پر عوام کو قطاروں میں کھڑا کردیتے تھے، اب شاید ان کو آواز سنائی نہیں دے رہی، یعنی جس کی لاٹھی اُس کی بھینس بلکہ مویشیوں کا پورا طویلہ ان کا۔ لہٰذا اس استحصالی اور لوٹ کھسوٹ کے نظام میں کہاں سے تبدیلی آئے گی؟ یہاں ملک کی تمام باگ ڈور ایک طبقے کے ہاتھ میں ہے، وہ تمام سیاہ و سفید کے مالک ہیں۔ ایک طبقاتی نظام میں بے شک نام بدلتے رہیں، چہرے بدلتے رہیں، لیکن نظام وہی چلے گا۔ کچھ عرصے کے بعد کچھ نئے چہرے، کچھ نئے نام اس لیے متعارف کیے جاتے ہیں کچھ توڑھے بہت اصلاحات، کچھ خوش نما نعرے اور وعدے کہ ’’وزیراعظم ہاؤس استعمال نہیں کیا جائے گا، گورنر ہاؤس کو عوام کے لیے کھول دیا جائے گا‘‘ ان دلفریب جھوٹے نعروں پر موجودہ فرسودہ اور استحصالی نظام کو چلانے کے لیے کچھ مزید وقت دیا جاتا ہے، عوام کو بہلایا جاتا ہے، امید دلائی جاتی ہے، اندر سے یہ تمام ایک طبقے کے لوگ ہیں۔ اندرونی تضادات کا شکار ہوتے ہیں اور جب مفادات آپس میں ٹکراتے ہیں، تو ایک نمونہ علامت کے طور پر مسلم لیگ اور شریف برادران بن جاتے ہیں اور دوسری جانب تحریک انصاف اور عمران ایک علامت کے طور پر اُبھر آتے ہیں اور ساتھ اُسی طبقے، حکمرانوں کے مسترد جھٹلائے ہوئے شیخ رشید، پرویز الٰہی، شاہ محمود قریشی، جہانگیر ترین، فواد چوہدری جیسے چہرے شامل ہوجاتے ہیں کہ شاید کچھ فائدہ ملے۔ (جاری ہے)
متعلقہ خبریں
- کمنٹس
- فیس بک کمنٹس
