Swat

ملاکنڈ ڈویژن، وفاقی حکومت کا ٹیکس میں چھوٹ نہ دینے کا فیصلہ برقرار

(باخبر سوات ڈاٹ کام)وفاقی حکومت نے فاٹا اور پاٹا میں ٹیکس میں مزید چوٹ نہ دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے ملاکنڈ ڈویژن اور سابق قبائلی اضلاع میں وفاقی ٹیکس برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق پاٹا اور فاٹا میں احتجاج اور ملاکنڈ ڈویژن کے دس اضلاع میں شٹر ڈاون کے بعد وفاقی وزیر امیر مقام نے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف سے اس بارے میں کئی ملاقاتیں کیں اور ان کو فاٹا اور پاٹا میں ایک سے تین سال تک ٹیکس چوٹ دینے کا مطالبہ کیا، جس پر وزیر اعظم نے نائب وزیر اعظم اور دیگر متعلقہ محکموں کے سربراہان سے رپورٹ طلب کی، لیکن تمام نے وزیر اعظم کو مزید چوٹ دینے سے انکار کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی اداروں نے اس بارے میں آئی ایم ایف کے عہدیداروں سے بھی رابطہ کیا لیکن انہوں نے بھی چوٹ دینے سے انکار کیا۔واضح رہے کہ مئی 2018ء میں پچیس ویں آئینی ترمیم کے ذریعے اس وقت ن لیگ کی حکومت نے قومی اسمبلی اور بعد میں سینٹ سے دو تہائی اکثریت سے فاٹا اور پاٹا کی آئینی حثیت ختم کی تھی، جس میں تحریک انصاف نے بھی ان کا ساتھ دیا تھا۔ بعد میں خیبر پختون خوا میں تحریک انصاف کی حکومت نے پچیس ویں آئینی ترمیم کو دو تہائی اکثریت سے پاس کرکے فاٹا اور پاٹا کے آئینی حثیت کا خاتمہ کیا تھا۔ اس کے بعد صدر پاکستان کی منظوری کے بعد پاٹا اور فاٹا کی آئینی حثیت ختم ہوگئی تھی اور 2018ء سے اب تک فاٹا اور پاٹا کو ٹیکس میں ایکسٹینشن کے ذریعے چوٹ دی جارہی تھی، جو بالآخر ختم کردی گئی۔ صوبائی حکومت نے اپنے ٹیکسز میں فاٹا اور پاٹا کو ٹیکسوں میں مزید چوٹ دینے کا پہلے ہی اعلان کیا ہے۔

اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔