Swat

ناجائز حکومت کا خاتمہ کرکے دم لیں گے، مولانا فضل الرحمان

سوات  (باخبر سوات ڈاٹ کام)   پی ڈی ایم کے مرکزی صدر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ طویل عرصے کے بعد آج سوات کے ٹھنڈے موسم میں پی ڈی ایم نے پھر سے مہم کا آغاز کردیا ہے۔ ملک میں ہم سیاسی جدوجہد کے لئے پر عزم ہیں۔ ملک سے اس ناجائز حکومت کا خاتمہ کرکے دم لیں گے۔ عمران خان پاکستان کی سیاست کا غیر ضروری حصہ ہے۔ قومی سلامتی کونسل میں اس کو کسی نے نہیں بلایا، جس کا مقصد اس کی حیثیت حکومت سے پہلی تھی اور نہ بعد میں ہے۔ آج اس کے جانے کے دن آچکے ہیں۔ وہ آج کل کبھی امریکہ اور کبھی برطانیہ کے خلاف بات کرتا ہے۔ اس کو پتا ہے کہ پاکستان میں لوگ کس کے خلاف ہیں لیکن عمران نہ چلنے والا کارتوس ہے۔ آج وہ مشرف کے خلاف باتیں کرتا ہے لیکن اس وقت عمران، مشرف کا ایجنٹ تھا اور اس کے تمام گناہوں میں شامل ہے۔ آج بھی تمہارے برطانیہ میں جائز یا ناجائز اثاثے ہیں۔ عمران آج سی پیک کے منصوبوں کو متنازعہ بنارہا ہے اور چین جیسے دوست کو ناراض کر رہا ہے۔ عمران خان سن لو، تم سے امریکہ نے اڈے مانگے ہیں جو تم نہیں دے رہے ہو۔ انہوں نے فضائی سپیس مانگا تھا جو تم دے چکے ہو۔ افغانستان میں صورتحال تبدیل ہوچکی ہے۔ امریکہ افغاانستان میں شکست کھا چکا ہے۔ وہاں تحریک طالبان فتوحات حاصل کر رہی ہے۔ تم نے اقتدار کے لئے ہر حربہ آزمایا اور یو ٹرن لئے، لیکن اب پاکستانی قوم تمہارے دھوکہ میں آنے والی نہیں۔ اگر اداروں کی اس غیر قانونی حکومت کی پشت پناہی کی، تو ادارے بھی غیر آئینی حکومت کے اس جرم میں شریک ہوں گے۔ 2013ء میں مجھے ایک وفد نے کہا تھا کہ ہم پختون بیلٹ میں اس لئے عمران کو لائے ہیں کہ اس میں مذہبی جماعتوں کو ختم کردیں، لیکن عوام اور علما نے اس سازش کو مسترد کردیا۔ میں آج بھی عالمی برادری سے کہنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ جمہوریت کے عالمبردار ہیں، تو پھر اس غیر آئینی حکومت کی حمایت چھوڑ دیں۔ یہ جب ٹرمپ سے مل کر آیا، تو اس نے کہا کہ آج میں اتنا خوش ہوں جتنا ولڈ کپ جیتنے کے بعد خوش تھا۔پی ڈی ایم سوات کا اتنا بڑا جلسہ ایک نئی جدوجہد کا آغاز ہے۔عوام، افراد کے ساتھ نہیں نظریہ کے ساتھ ہیں۔ یہ ایک گاڑی ہے جس سے سواریاں اترتی بھی ہیں اور چڑھتی بھی ہیں۔ تیس لاکھ برسرِ روزگار ملازمین کو بے روزگار کیا گیا۔ کہاں ہیں تمہاری ایک کروڑ نوکریاں اور گھر……؟ ملک میں بجلی، گیس اور تیل کو مہنگا کرکے عوام کو خود کشیوں پر مجبور کردیا۔ اب لوگ پرانا پاکستان چاہتے ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف نے اپنے خطاب میں کہاکہ مہنگائی، بے روزگاری اورموجودہ نظام کے خلاف پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے انقلاب ناگزیر ہوچکی ہے۔ ”اسے گھبراؤ اور بھگاؤ“ کا نعرہ لگانے آیا ہوں۔عمران خان کہتے ہیں کشمیرکامسئلہ حل ہو، تو ایٹمی قوت کی ضرورت نہیں جوبچکانہ عمل ہے۔عمران نیازی کی 350 بجلی گھروں کی آواز آج بھی میرے کانوں میں گونج رہی ہے۔2017ء تک 20,20 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ تھی جونوازشریف نے ختم کی۔ عمران کی سستی بجلی تو دور کی بات آج مہنگی بجلی بھی نہیں مل رہی۔انہوں نے کہاکہ عمران نیازی نے روایات کو پامال کردیاہے۔ اب قومی اسمبلی میں عمران کی سیٹ اس طرح خالی ہوتی ہے،جس طرح غریب کی جیب خالی ہے۔ انہوں نے کہاکہ 90 دن میں کرپشن ختم کرنے والوں کے دعوے محض دعوے ہی نکلے ہیں۔ ایک کروڑ نوکریاں دینے والوں نے کروڑوں لوگوں کو بے روزگارکرادیا۔ انہوں نے کہاکہ نواز شریف کے دور میں دوائیاں مفت ملتی تھیں، اب لوگ خوارہورہے ہیں۔ شہباز شریف نے کہاکہ یہ وہ پاکستان نہیں جو قائد اعظم نے بنایاتھا۔ آج ملک کے لئے قربانیاں دینے والوں کی روحیں تڑپ رہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ چینی اور گندم باہر بھیج کر اور پھر درآمد کرکے کروڑوں ہضم کررہے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور قائدِحزبِ اختلاف شہباز شریف نے جلسہ کے دوران ملم جبہ جانے کی خواہش تو ظاہر کی، لیکن ساتھ ہی ملم جبہ سکینڈل پر پی ٹی آئی حکومت کو تنقید کانشانہ بنایا کہ ملم جبہ جانا چاہتا ہوں،پر ڈر ہے کسی اور کی کرپشن میں نہ پکڑاجاؤں۔ کیونکہ عمران خان نیازی کی خواہش ہے کہ میں پابند سلاسل رہوں۔شہبازشریف نے کہاکہ ملم جبہ تب جاؤں گا، جب پی ڈی ایم کی حکومت آئے گی۔
پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہاہے کہ پاکستان ہمیں خیرات میں نہیں دیاگیا۔اس کے بنانے میں ہرقوم اور قبیلے نے قربانیاں دی ہیں۔یہ ملک ہر جرنیل اور ہرسیاسی کارکن کا مساوی ہے۔ محمودخان اچکزئی نے کہاکہ پی ڈی ایم بنانے کا بیانیہ بیس کروڑ عوام کا بیانیہ ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے لیکن پاکستان کو خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے کہاکہ لوگ پاکستان کے آئین کو نہیں مانتے، تو کیسے یہ ملک ترقی کرے گا۔محمود خان اچکزئی نے کہاکہ ہر کوئی جو آئین کو معطل کرتا ہے، وہ پاکستان کا دوست نہیں۔جو لوگ پاکستان کے آئین کو نہیں مانتے انہیں ہم بھی نہیں مانیں گے۔ محب وطن اور آئین کی بات کرنے والوں کو غدارقراردیاجاتا ہے۔عثمان کاکڑ کی آواز کو خاموش کردیاگیا ہے۔انہوں نے کہاکہ پی ڈی ایم کے قائدین سے اپیل کرتا ہوں کہ پاکستان میں آئین کی بالادستی کو ہر صورت یقینی بنایاجائے۔ انہوں نے کہاکہ پی ڈی ایم ملک میں انقلاب لانے کی تیاریاں کررہی ہے۔ اب اس کے سوا کوئی راستہ نہیں۔
قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے جلسہ سے اپنے خطاب میں کہاکہ افغانستان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، لیکن بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں کو اس صورتحال کی ذرابھی فکرنہیں۔ انہوں نے کہاکہ تقریروں سے ملک کی پالیسی نہیں بنائی جاسکتی۔ اس لئے وقت کی ضرورت ہے کہ تمام سٹیک ہولڈرز کو ایک پیج پر جمع کرکے واضح پالیسی بنائی جائے۔ انہوں نے کہاکہ ہم پر 8 سالوں جبکہ پاکستان پر3 سالوں سے نااہل حکمران مسلط ہیں۔ انہوں نے کہاکہ عوام اس وقت مہنگائی اور بے روزگاری کی چکی میں پس رہے ہیں، جبکہ حکمران آج بھی معیشت کی بہتری اور خوشحالی کے دعوے کرکے نہیں تھکتے۔انہوں نے کہاکہ اب وقت کا تقاضا ہے کہ عوام اس بار انتخابات میں پی ڈی ایم کو کامیاب کرائیں۔انہوں نے کہاکہ ہم سمجھتے کہ موجودہ حکمرانوں کو گھر بھیجنے کا وقت آگیا ہے اور عوام چاہتے ہیں کہ ان نااہل حکمرانوں سے نجات پالیں۔
اہل حدیث و الجماعت کے مرکزی سربراہ پروفیسر ساجد میرنے اپنے خطاب میں کہا کہ مہنگائی نے عوام کا جینامحال کردیاہے۔ عوام کے ساتھ کئے گئے وعدے ایفاتو دور کی بات آج مہنگائی سے پچاس فیصد لوگ خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور کردیاگیا ہے۔انہوں نے کہاکہ پی ڈی ایم ایک قوت ہے۔ جنہوں نے جاناتھا، وہ چلے گئے ہیں۔ اب یہ اتحاد اپنی منزل مقصود پر پہنچ کررہے گا۔انہوں نے کہاکہ سلیکٹڈ اور جعلی حکمرانوں کو گھر جانا ہوگا۔
ن لیگ کے صوبائی صدر امیر مقام نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوگ کہتے تھے کہ شدید گرمی میں کیوں جلسے کرہے ہیں۔ اس لئے کہ ملک پر نا اہل حکمرانوں کی حکومت ہے۔پی ڈی ایم نے نا لائق حکمرانوں کو گھر بیجنے کے لیے باہر نکلی ہے۔آج ملک کے ادارے گروی رکھ کر ثابت کردیا گیا کہ ملک پر نااہلوں کا ٹولا مسلط ہے۔اگر نالائقوں کا ٹولہ مزید مسلط رہا تو ملک بیج دیا جائے گا۔ سوات کے عوام نے ملک کی خاطر بہت قربانی دی ہے، لیکن ان کی قربانیوں کا صلہ انہیں نہیں ملا۔سوات کے عوام نے اپنے مسائل کے حل کے لیے جو نمائندے اسمبلی بھیجیں ہیں، وہ مسائل کے حل کے بجائے لوگوں کو گالیاں دے رہے ہیں۔
پی ڈی ایم کے جلسہ سے پاکستان نیشنل پارٹی کے صدر طاہر بزنجو، جے یو آئی کے اویس نورانی اور ایم این اے اسد الرحمان نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، ن لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب بھی موجود تھیں۔

اشتہار / Advertisement

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔