کالم نگاری

خپل وزیر اعلیٰ اور خستہ حال سوات 

میاں گل عبدالحق

✍️ کالم نگار: میاں گل عبدالحق

اشتہار / Advertisement

پچھلے عام انتخابات کے بعد پی ٹی آئی کے موجودہ ’’خپل وزیر اعلیٰ‘‘ محمود خان کی نامزدگی کا اعلان ہوا، تو سوات کے عوام کے چہروں پر اس خبر کے ساتھ مسکراہٹ پھیلتی نظر آئی۔ پہلی بار سوات سے وزیراعلیٰ منتخب ہونے پر جشن منایا گیا اور میٹھائیاں بانٹی گئیں۔ مگر سوات کو اس وقت جن مشکلات کا سامنا ہے، شائد پہلے نہ تھا۔ آج یہاں سب سے بڑا مسئلہ صحت کا ہے۔ سوات کے تمام ہسپتال برائے نام ہیں، نہ یہاں ٹھیک طور پر علاج معالجہ ہوتا ہے اور نہ ادویہ ہی ملتی ہیں۔ محمود خان نے وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کے بعد آج تک 6 ماہ ہوئے ہیں اور ابھی تک سوات کے خراب ہسپتالوں کی صورت حال پر بھی خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ اب تک وزیر اعلیٰ محمود خان نے مشہور والیِ سوات کے ہسپتال سیدو شریف اور سنٹرل ہسپتال کا دورہ تک نہیں کیا۔ صرف اور صرف ایم پی اے اور ایڈمنسٹروں کے رحم و کرم پر اسے چھوڑا ہے۔ عوامی حلقوں نے موجودہ وزیراعلیٰ محمود خان سے گلہ کیا ہے کہ آپ کہاں غائب ہیں؟ سوات کے ہسپتالوں کی خراب صورتحال پر آپ کیوں خاموش ہیں؟
قارئین، پی ٹی آئی کی موجودہ صوبائی حکومت عوام کو صحت سہولیات کی فراہمی کے جو دعوے کر رہی ہے، وہ کھوکھلے دعوے ہیں۔
منگلور سول ہسپتال بھی مسائل کی آماجگاہ ہے۔ مریضوں کے لیے سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس طرح منگلور سول ہسپتال میں بھی گائنی مریضوں کو کسی قسم کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے اسے سنٹرل ہسپتال گائنی وارڈ منتقل کیا جا رہا ہے۔ مگر سنٹرل ہسپتال سیدوشریف کے گائنی وارڈ کو اگر قصاب خانہ کہا جائے، تو بے جا نہ ہوگا۔
راقم کے خیال میں وزیراعلیٰ صاحب اور سوات کے ایم این ایز اور ایم پی ایز صاحبان اس بدقسمت ملک کے بادشاہ ہیں۔ وہ خود خوشحال ہوجائیں گے، انہیں کیا خبر کہ سرکاری ہسپتالوں میں غریب عوام کے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے؟ راقم اپنے طور پر محکمۂ صحت سوات کے ذمہ داروں اور کرتا دھرتاؤں کو ان ہسپتالوں کے برے حالات کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے، جو عوام کے ٹیکسوں سے بھرے جانے والے قومی خزانے سے بھاری تنخواہیں اور مراعات لینے کے باوجود بھی کام نہیں کرتے۔ ہسپتالوں کا عملہ اور خاص کر گائنی وارڈ کا عملہ وہاں جاری غفلت، لاپروائی اور ظلم پر خاموش ہے۔ کیا ان لوگوں نے یہ بھلا دیا ہے کہ ان لوگوں سے خدا تعالیٰ روزِ قیامت اس خاموشی پر باز پرس کرے گا؟
سوات کے ہسپتالوں کی ناقص کارکردگی اور سنٹرل ہسپتال کے گائنی وارڈ کے عملہ کی کارکردگی اور غریب عوام اور مریضوں کے ساتھ ان کے اس سلوک اور محکمۂ صحت کے اعلیٰ افسران کی لاپروائی پر جتنا بھی ماتم کیا جائے کم ہے۔ غریب مریضوں کے ساتھ عرصہ سے روا رکھے گئے ان مظالم پر آخر خپل وزیراعلیٰ اور مقامی ایم این ایز اور ایم پی ایز کب تک خاموش رہیں گے؟ کیا یہ موجودہ وزیراعلیٰ اور ایم این ایز اور ایم پی ایز کبھی کسی غریب اور مظلوم مریض سے رابطہ کریں گے؟
عوامی حلقوں نے کہا ہے کہ سوات کے ہسپتالوں کو صحیح معنوں میں ٹھیک کیا جائے اور قوم کے ساتھ مذاق بند کیا جائے۔ یہ آپ کے لیے اہم چانس ہے، اگر قوم کی خدمت کی، تو اس کا فائدہ آپ ہی کو ہوگا۔

اشتہار / Advertisement
اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

★ ★ ★ ★ ★
اوسط ریٹنگ: ⭐ 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔