Swat

امن کا قیام اے این پی کے بغیر ممکن نہیں، ایمل ولی خان

(باخبر سوات ڈاٹ کام)عوامی نیشنل پارٹی صوبہ خیبر پختون خوا کے صدر میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ اگر پاکستان میں امن چاہتے ہیں تو یہ کام اے این پی کے بغیر ممکن نہیں۔ تین بار الیکشن ہوئے لیکن ہم کو مسلسل ہروا کر ایوان سے باہر رکھا گیا۔ آج ہم یہ بتانا نا چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ سے ہمیں نکال سکتے ہو لیکن سیاسی میدان سے نہیں نکال سکتے۔ ہم کسی صورت اس صوبے میں دوبارہ دہشت گردی کو نہیں مانیں گے۔آزاد الیکشن ہوئے تو اے این پی ہی اقتدار میں آئے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ودود ہال سیدو شریف میں باچا خان اور ولی خان کی برسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر محمد سلیم خان، صوبائی جنرل سیکرٹری شاہ حسین، ضلع سوات کے صدر شیر شاہ خان، ضلع جنرل سیکرٹری عبدالمالک اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ ایک وقت تھا جب سوات میں جمہوریت اور ووٹ کو کفر سمجھا جاتا تھا۔ ملاکنڈ ڈویژن میں شرعی نظام کے نفاذ کے بعد دہشت گردانہ کارروائیاں نہ رکیں، تو عوام ان کا ساتھ چھوڑ گئے۔ کامیاب آپریشن کے بعد ملاکنڈ ڈویژن میں مثالی امن قائم ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آئین کے مطابق پالیسی بنائیں، تو تسلیم کریں گے۔ کیونکہ ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کی مایوس کن کارکردگی کے باعث لوگ عوامی نیشنل پارٹی کی طرف راغب ہوریے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ صوبہ بھر میں باچا خان اور خان عبدالولی خان کی برسی کے حوالے سے کامیاب اور تاریخی جلسوں سے ثابت ہورہا ہے کہ ہم اقتدار کے لئے نہیں بلکہ پختونوں کے حقوق کی جنگ لڑرہے ہیں۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ سوات میں بہت برے حالات گزرے ہیں اور ایک وقت ایسا تھا کہ عدالتوں میں جج تھانوں میں پولیس تک نہیں تھی۔ دہشت گردوں نے علاقے کو یرغمال بنا دیا تھا۔ ہم نے مذکرات کی ناکامی کے بعد آپریشن کی حمایت کا فیصلہ کر کے علاقے کو دہشت گردی سے صاف کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سوات کا امن ہمیں خیرات میں نہیں بلکہ اے این پی کے قائدین اور کارکنان کی قربانیوں کی بدولت ملا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اے این پی نے ملاکنڈ ڈویژن میں شرعی نظام عدل قائم کرکے مذاکرات میں کیا گیا وعدہ پورا کیا لیکن اس کے باوجود صوفی محمد نے جمہوریت کو کفر قرار دیکر ریاست کو للکارا۔ جس کے بعد تاریخی آپریشن ہوا اگر کوئی بحال شدہ امن کو برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اے این پی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی نہ کرے۔

اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔