Swat

سوات، امراضِ قلب کے مریضوں پر تمام کیتھ لیبز کے دروازے بند

(باخبر سوات ڈاٹ کام)صحت کارڈ کی جانب سے نجی ہسپتالوں میں ہارٹ اٹیک’’ایم آئی‘‘ کی پالیسی میں تبدیلی کی وجہ سے امراضِ قلب کے ڈاکٹروں نے نجی ہسپتالوں میں ہڑتال کردی۔ سرکاری سیدو ہسپتال کا کیتھ لیب خراب ہونے کی وجہ وہاں بھی امراضِ قلب کے مریضوں کا علاج بند ہے، جس کی وجہ سے امراضِ قلب کے مریضوں کو پشاور جانا پڑ رہا ہے۔ پشاور جانے اور نجی ہسپتالوں کا خرچ برداشت نہ کرنے والے مریضوں کے لئے مرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا۔ صحت کارڈ کی نئی پالیسی کے مطابق جس نجی ہسپتال میں جس ڈاکٹر کا کلینک ہوگا، وہ اس ہسپتال کے کیتھ لیب میں امراضِ قلب کے مریضوں کا صحت کارڈ پر علاج کرسکے گا۔ اس وقت ملاکنڈ ڈویژن کے نو اضلاع میں صرف تین نجی ہسپتالوں میں کیتھ لیب موجود ہے اور ڈویژن کے نو اضلاع میں امراضِ قلب کے درجنوں ڈاکٹر ہیں۔ نجی ہسپتالوں کی انتظامیہ اپنے ہسپتال میں امراضِ قلب کے ایک یا دو ڈاکٹروں کو کلینک کی اجازت دیتی ہے۔ ملاکنڈ ڈویژن میں روزانہ اوسطاً پچاس سے ساٹھ مریضوں کو ہارٹ اٹیک ہوتا ہے۔ تین سے پانچ ڈاکٹر وں کے لئے اتنے مریضوں کا علاج ممکن نہیں۔ اس لئے نجی ہسپتالوں میں امراضِ قلب کے ڈاکٹروں نے اس پالیسی کے خلاف کام کرنا چھوڑ دیا اور ملاکنڈ ڈویژن کے 9 اضلاع کا واحد کیتھ لیب خراب ہونے کی وجہ سے وہاں بھی ہارٹ اٹیک کا علاج بند ہے۔ اس سلسلے میں صحت کارڈ کے ریجنل ڈائریکٹر محمد اعجاز سے ان کا موقف لینے کے لئے ان کے فون پر بار بار رابطے کی کوشش کی گئی، لیکن ان کا فون بند آرہا تھا۔

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں