Swat

بند کمروں میں کیے جانے والے فیصلے کسی صورت منظور نہیں، وزیر اعلی خیبر پختونخوا

(باخبر سوات ڈاٹ کام) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے مینگورہ میں سٹریٹ موومنٹ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ بند کمروں میں ہونے والے فیصلوں کے خلاف کھل کر کھڑے ہیں اور خیبر پختونخوا پر گورنر راج یا کسی بھی غیر آئینی اقدام کی سازش کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ اس سے قبل وزیر اعلیٰ دوہ جنگی چوک مینگورہ پہنچے، جہاں کارکنوں اور پارٹی رہنماؤں نے ان کا شاندار استقبال کیا۔ قافلے کا قمبر چوک، بلو گرام چوک اور بریکوٹ میں بھی جگہ جگہ استقبال کیا گیا اور بعد ازاں مختلف مقامات پر انہوں نے خطاب کیا۔ وزیر اعلیٰ کے ہمراہ صوبائی وزیر ہائر ایجوکیشن مینا خان آفریدی، وزیر اطلاعات شفیع جان، ایم این اے شاہد خان خٹک، ایم این اے ڈاکٹر امجد علی، ایم این اے سلیم الرحمن، ایم این اے سہیل سلطان، ممبران صوبائی اسمبلی فضل حکیم خان، حمید الرحمٰن، علی شاہ خان ایڈوکیٹ، اختر خان ایڈوکیٹ، محمد نعیم اور پارٹی کے دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ خطاب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ عمران خان نے جب انہیں وزارتِ اعلیٰ کے لیے نامزد کیا، تو مخالفت کی گئی مگر خیبر پختونخوا کے عوام نے ووٹ کے ذریعے عمران خان کو واضح مینڈیٹ دیا اور اب صوبے میں راج بھی عمران خان کا ہی چلے گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کے خلاف منظم انداز میں بیانیے بنائے گئے۔ انہیں دہشت گرد ثابت کرنے کی کوشش کی گئی اور ایک ادارے کے سربراہ نے ان کے خلاف پریس کانفرنس کرکے ویڈیوز چلائیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کے خلاف گورنر راج لگانے، نااہل کرنے اور حتیٰ کہ قتل تک کے منصوبے بنائے گئے جبکہ ان کے آبائی حلقے میں آپریشن شروع کرکے لوگوں کو بے گھر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم فوج اور اداروں کے خلاف نہیں ہیں لیکن بند کمروں میں عوامی رائے کے خلاف کیے گئے فیصلوں کی کھل کر مخالفت کریں گے اور ایسے فیصلوں کے باغی رہیں گے۔

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں