کالم نگاری

ریاستِ سوات میں آخری قصاص

غلام احد ایڈووکیٹ

✍️ کالم نگار: غلام احد ایڈووکیٹ

اشتہار / Advertisement

  لفظ قصاص کے لغوی معنی ’’مماثلت کرنا‘‘ کے ہیں۔ اصطلاحِ شرع میں قصاص یعنی خون کا بدلہ اُس قتلِ عمد اور زخم لگانے کی سزا کو کہا جاتا ہے جس میں مساوات اور مماثلت کی رعایت کی گئی ہو۔ قرآنِ عظیم الشان میں اللہ تبارک و تعالا کا اشاد ہے: ’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، تمھارے لیے قتل کے مقدمات میں قصاص یعنی خون کے بدلے کا حکم فرض کیا گیا ہے۔آزاد مرد نے قتل کیا ہو، تو اُس آزاد ہی سے بدلہ لیا جائے۔ قاتل اگر غلام ہو، تو وہی غلام ہی قتل کیا جائے۔ یا اگر عورت قتل کی مرتکب ہو، تو اُس عورت ہی کو قصاص کیا جائے۔ ہاں، اگر کسی قاتل کے ساتھ اُس کے بھائی یعنی مقتول کے ورثا کچھ نرمی کرنے یعنی معاف کرنے کے لیے تیار ہوجائیں، تو معروف طریقے کے مطابق خون بہا کا تصفیہ ہونا چاہیے۔ قاتل کو لازم ہے کہ راستی کے ساتھ خون بہا ادا کرے۔ یہ تمھارے رب کی طرف سے آسانی اور رحمت ہے…… اور جو کوئی اس فیصلے کے بعد زیادتی کرے یعنی یہ کہ مقتول کے ورثا خون بہا وصول کرلینے کے بعد پھر انتقام لینے کی کوشش کریں، یا قاتل خون بہا ادا کرنے میں ٹال مٹول کرے اور مقتول کے ورثا نے معاف کرکے جو احسان کیا ہے، اُس کا بدلہ احسان فراموشی سے دے، تو اُس کے لیے درد ناک سزا ہے۔ (سورۃ البقرہ، آیت نمبر: 178)
اور اس سے اگلی آیت میں ایک بہت ہی حکیمانہ انداز میں ایک واضح تنبیہ کے طور پر اعلان کیا گیا ہے کہ ’’اے عقل و خرد رکھنے والو! تمھارے لیے قصاص میں زندگی ہے۔ اُمید ہے کہ تم اس قانون کی خلاف ورزی سے پرہیز کروگے۔ (البقرہ، آیت نمبر: 179)
قارئین! ہمارا مشاہدہ رہا تھا کہ سوات کے حکم ران اور ریاستی حکومت اس قرآنی سزا پر من و عن پابندی کے ساتھ عمل کرتی چلی آرہی تھی۔ آسان اور غیر جانب دارانہ واضح تفتیش کے نتیجے میں چند گھنٹوں کے اندر اندر قاتل کا پتا لگایا جاتا تھا۔ قتل کے محرکات عموماً زن، زر، زمین، نفسانی ہوس اور انتقامی جھگڑے ہوا کرتے تھے جو کہ آج بھی ایسا ہی ہے۔ ان کے علاوہ قتل مقاتلے کا شاید کوئی محرک ہو۔ لہٰذا اپنی عوامل، محرکات اور ممکنات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے تفتیش کی جاکر اصل قاتل کو عدالت کے کٹہرے میں لاکھڑا کیا جاتا۔ قاتل کا فرار یا روپوش ہونا قطعی ناممکن بات تھی۔ عینی گواہان بھی بغیر کسی خوف، دھونس دھمکی اور لالچ کے گواہی دینے کے پابند تھے۔ قتل کے مقدمات ایک دو ہفتوں سے بھی کم مدت میں نمٹائے جاتے تھے۔ حتیٰ کہ مجھے خوب یاد ہے کہ سیدوشریف کے بازار میں ایک روز علی الصباح قتل کے مرتکب صابر نامی قاتل جو خود سیدو تھانے میں سپاہی تھا، کو وقوعہ کے دن ہی دو ڈھائی گھنٹے بعد قصاص کیا گیا تھا۔ اُس کے قصاص ہوتے وقت راقم بھی موقع پر موجود تھا۔ اس پر پہلی گولی کے کچھ وقفہ بعد دوسری گولی چلائی گئی تھی، تاکہ پہلی گولی کے بعد وہ زیادہ دیر تک تکلیف میں مبتلا نہ ہو۔ ایسا عموماً موقع پر موجود ڈاکٹر کی ہدایت پر کیا جاتا۔ میرا گھر چوں کہ سنٹرل جیل کے قریب ہی تھا، اس لیے مجھے جیل کے عقب میں، جانسے پہاڑ کے دامن میں برساتی نالے میں جو کہ مرگھٹ کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، درجن بھر کے قریب قاتلوں کے قصاص کے مناظر دیکھنے کا موقع ملا تھا۔ نہ جانے میرا دل اُس وقت کیوں اتنا سخت تھا کہ اگر کسی کو قصاص کرتے ہوئے خود نہ دیکھ پاتا، تو کمی سی محسوس کرتا جب کہ اب تو کسی جانور کو بھی تکلیف میں دیکھنے کی تاب نہیں۔ اپنی قصاص شدہ لوگوں کی ایک نامکمل فہرست ابھی تک فیس بک پر گردش کررہی ہے، البتہ ترتیب کے لحاظ سے ریاستی دور میں آخری قصاص شدہ نوجوان کا نام مذکورہ فہرست میں بھی آخر میں درج ہے۔ اُس کا نام ’’رشاد‘‘ تھا۔ اس کے والد کا نام غالباً زرشاد تھا۔ وہ پاچا کلے بونیر کا باشندہ تھا۔ اسی طرح رشاد سیدوشریف سے تعلق رکھنے والے گورنمنٹ ہائی سکول پاچاکلے بونیر میں زیرِ تعلیم جماعت دہم کے گل بوستان نامی طالب علم کے قتل میں ملوث تھا۔ مقتول کا والد بخت روان پاچاکلے ہی میں ایک پرائیویٹ ٹرانسپورٹ اڈے میں منشی تھا۔ قتل کی یہ واردات 30 مئی 1969ء کو وقوع پذیر ہوچکی تھی۔ وجۂ عناد محض ایک معمولی سی غلط فہمی تھی۔ جائے وقوعہ تحصیل گدیزی پاچاکلے کے عین سامنے سڑک تھی۔ اس وقت گلیگرام سوات کے میاں اقبال حسین ایڈوکیٹ کے والد میاں شجاع الملک صاحب تحصیل دار تھے۔ قاتل کو رنگے ہاتھوں گرفتار کرکے ریاست کے صدر مقام سیدوشریف لایا گیا۔ والی صاحب کو پیشی ہوئی۔ محکمۂ قضا میں شہادتیں پیش ہوئیں۔ قاتل نے بھی اقرارِ جرم کرلیا۔ مکمل اطمینان اور تسلی سے شریعت کی روشنی میں جائزہ لیا گیا اور آخرِکار قصاص کا حکم جاری ہوا۔ 9 جون 1969ء یعنی قتل کے ارتکاب کے صرف نو روز بعد قاتل کو تقریباً دن کے 11 بجے قصاص کیا گیا۔ اللہ اُس کی روح کو آرام پہنچائے۔ اس کے اگلے صرف 3 ماہ بعد 28 جولائی 1969ء کو ایک فوجی ڈکٹیٹر، صدرِ پاکستان جنرل یحییٰ خان نے ریاستی باشندوں کی رائے پوچھے بغیر ریاستِ سوات کے ادغام کا اعلان کرکے آسان اور تیز تر انصاف کی فراہمی کا خون کردیا۔ اس طرح رشاد کا قتل ریاست کا آخری قصاص ثابت ہوا۔
اس جیسے منصفانہ اور تیز تر فیصلوں کے نتیجے میں ریاست کے طول و عرض میں امن و امان کا دور دورہ تھا۔ ہر شخص کی جان و مال عزت و آبرو محفوظ تھی…… لیکن افسوس کہ یہ نظام مزید جاری نہ رہ سکا۔
قصاص کے ان مقدمات کو انصاف کے تمام تر تقاضے پورے کرکے فیصلہ جاری کرنے کے بارے میں والی صاحب اپنی آپ بیتی (اُردو ایڈیشن) کے صفحہ 189 تا 192 تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے یوں دعوا کرتے ہیں کہ 1949ء کے آخر میں یعنی بارہ دسمبر 1949ء کو جب میں حکم ران بنا، تو لوگوں کی زندگی اور موت کی تمام تر ذمے داری میرے کندھوں پر آپڑی۔ اگر کوئی قتل بغیر کسی شک و شبہ کے ثابت ہوجاتا، تو ہم شریعت کے مطابق سزا دیتے۔ البتہ اگر مقتول کے ورثا مثلاً: والد، بھائی یا بیٹا قاتل کی جان نہ لینا چاہتے، تو وہ خون بہا پر مصالحت کرتے۔ لیکن ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا۔ ورنہ ایک پولیس افسر، ڈاکٹر اور مقامی مجسٹریٹ (مشیر) کی موجودگی میں مقتول کے رشتہ دار کو بندوق دی جاتی اور وہ قاتل کو خود مار ڈالتا۔ مجھے دو باتوں پر نہایت ہی فخر ہے کہ میرے 20 سالہ دورِ حکومت کے دوران میں کسی بے گناہ شخص کو قصاص نہیں کیا گیا اور نہ کسی کو جیل میں اذیت دی گئی۔ اُن فیصلوں کو میں ذاتی طور پر بہت محسوس کرتا تھا۔ سزائے موت کا فیصلہ سنانے کے بعد قاتل کو مارے جانے تک میں بے چین رہتا اور دو تین گھنٹوں تک کوئی کام نہ کرسکتا۔ ہم اُسے جلدی سے ختم کرواتے۔ ہم قاتل کو عموماً سزائے موت سے ایک گھنٹا پہلے تک بے خبر رکھتے، تاکہ وہ طویل وقت تک تشویش اور پریشانی میں نہ رہے۔ ہم اُسے مختصر وقت دیتے، تاکہ وہ اپنے آپ کو سنبھال سکے۔ جب مجھے اطلاع دی جاتی کہ سزا پر عمل درآمد ہوچکا ہے، تو تبھی میں مطمئن ہوجاتا۔
قارئین! آپ اُس وقت کے عدالتی نظام کا موجودہ عدالتی نظام سے موازنہ کریں، تو آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ ادغام سے یہاں کے باشندوں کا کتنان نقصان ہوا ہے۔
رہے نام اللہ کا……!

اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

★ ★ ★ ★ ★
اوسط ریٹنگ: ⭐ 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔