سوات (باخبر سوات ڈاٹ کام) پشاور ہائی کورٹ مینگورہ بنچ کے جسٹس قلندر علی خان اور جسٹس محمد غنضفر پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سوات کی تین قومی اور پانچ صوبائی حلقوں کے انتخابی حلقہ بندیوں پر الیکشن کمیشن کے فیصلہ کو کالعدم قرار دے دیا۔ ضلع بونیر کی انتخابی حلقہ بندیوں کے حوالے سے رٹ کو خارج کردیا۔ وکلا کی دلائل مکمل ہونے کے بعد ڈویژن بنچ نے سوات کے حلقہ این اے 2,3,4 اور پی کے 4,5,6,7 اور 8 کے لئے دائر رٹ کو منظور کرتے ہوئے اپنے مختصر فیصلہ میں الیکشن کمیشن کی حلقہ بندیوں کے فیصلہ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے مقدمات کو ان ہدایات کے ساتھ الیکشن کمیشن کو ریمائنڈ کردیا کہ الیکشن کمیشن تمام درخواست ہائے فریقین کو دوبارہ سننے کا موقع فراہم کرنے کے بعد فیصلہ کرے۔ جہاں پر حلقہ بندیوں میں کوتاہی ہوئی ہو اور غلط حلقہ بندیاں مرتب کی گئی ہوں، وہاں پر الیکشن کمیشن از سر نو جائزہ لے کردوبارہ حلقہ بندیاں کرے۔ ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ نے ضلع بونیر کی حلقہ بندیوں سے متعلق رٹ کو خارج کردیا۔ سوات اور ملاکنڈ ڈویژن کی حلقہ بندیوں کے بارے میں تفصیلی فیصلہ آج جمعرات کو جاری کیا جائے گا۔
Swat
