کالم نگاری

گھر کے قیدی

سعید اللہ

✍️ کالم نگار: سعید اللہ

اشتہار / Advertisement

کچھ عرصہ پہلے مجھے ٹائیفائیڈ ہوا۔ بخار کی شدت اور ڈاکٹر کی ہدایات کی وجہ سے مجھے ایک ہفتہ بستر پر آرام کرنا پڑا۔ یہ ایک ہفتہ میرے لیے ایک سال سے کم نہ تھا۔ اس دوران میں میرے لیے جو سب سے تکلیف دہ بات تھی، وہ گھر کی چاردیواری میں مقید رہنا، ہوا کی تبدیلی کا نہ ہونا اور گھومنے پھرنے کی نعمت سے محرومی تھی۔ اس وقت مجھے احسا س ہوا کہ ایک عورت جو ہمارے معاشرے میں گھر میں قید رہتی ہے، اس کی زندگی کتنی مشکل ہوگی۔ مذہب کے نام پر ہمارے غیر لچک دار کلچر نے عورت کو گھر کا قیدی بنا دیا ہے۔ اس کی آزادی، اس کی تعلیم، اس کی پسند اور اس کی تفریح پر پابندی لگائی ہے۔ عورت کا گھر سے نکلنا محال کردیا ہے۔ عورت کسی غمی، خوشی یا کسی وقوعہ کے وقت گھر سے نکل سکتی ہے، اس کے علاوہ ہر گز نہیں۔
دنیا کے اکثر ممالک میں قتل یا دوسرے جرائم میں ملوث مجرموں کو قید کی سزا دی جاتی ہے۔ جیل میں انہیں کچھ نہیں کہا جاتا، بس ان کو ایک چاردیواری میں بند رکھا جاتا ہے، اور یہ سب سے بڑی سزا ہے۔ اسی طرح ہمارے معاشرے میں عورت کو بند کرکے سزا دی جاتی ہے۔ اگر گھر کا ماحول ٹھیک ہو، اس میں خواتین کا حقیقی احترام ہو، تو پھر کچھ گزارا ہو جاتا ہے، لیکن اگر گھر میں ناانصافی، تربیت کا فقدان، جابرانہ رویے اور تشدد کا ما حول ہو، تو پھر تو عورت بے چاری رُل جاتی ہے۔ بڑے شہروں یا خالص دیہاتوں میں عورت کو گھر سے باہر نکلنے کے مواقع مل جاتے ہیں، مگر چھوٹے شہروں یا قصبوں میں ایک گھریلو عورت کا گھر سے نکلنا ناممکن ہوتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں عورت مرد سے پنج گنا زیادہ کام کرتی ہے۔ جھاڑو دینا، کپڑے دھونا، کھانا بنانا، مال مویشیوں کی خدمت، کھیتوں کے کام، بچے پالنا، غلاظتیں صاف کرنا، پانی لانا، لکڑی لانا، برتنوں کی صفائی، مہمانوں کی خدمت، اور ایسے بے شمار کام عورت ہی کو کرنے پڑتے ہیں، مگر ان تمام کاموں کا معاوضہ کوئی نہیں، بلکہ عورت اپنی بنیادی ضروریات کے لیے مرد کی مرضی اور موڈ کی محتاج ہے۔
علاوہ ازیں عورت کئی حوالوں سے استحصال کا شکار ہے، جس میں جسمانی، مالی، اخلاقی، معاشی، معاشرتی اور جنسی استحصال شامل ہے۔ عورت کو دوسرے درجے کے انسان کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اور کمزور سمجھا جاتا ہے۔ عورت کے بارے میں یہ دقیانوسی خیال پختون معاشرے میں عام ہے کہ ”خزے لہ کور او یا گور!“ یعنی کہ عورت کے لیے گھر ہے یا قبر۔ ان کے علاوہ ان کے لیے مدرسہ ہے نہ سکول، ہسپتال ہے نہ تعلیم و تفریح۔ عام لوگ اس مفروضے کو حرفِ آخر اور حکمِ سماوی سمجھتے ہیں، حالاں کہ یہ سراسر غلط اور مبنی برجہالت مفروضہ ہے۔ عورت بھی انسان ہے، اور تمام بنیادی انسانی حقوق کی یکساں حق دار ہے۔ اسی لیے تو رسولؐ اللہ نے حجۃ الوداع کے خطبے میں فرمایا کہ میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ عورتوں کے معاملے میں خدا سے ڈرو!
قارئین کرام! آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ عورتیں پرائے لوگوں کی موت پر بھی روتی ہیں۔ اس کی وجہ عورت کی کمزوری، بزدلی یا مردے سے ہمدردی نہیں ہوتی، بلکہ عورت کا اندرونی کرب، اضطراب اور محرومیاں ہوتی ہیں جو آنسو بن کر ٹپکتی ہیں، اور اس کے دل کا بوجھ ہلکا ہو جا تاہے۔ بقولِ غالبؔ
دل ہی تو ہے، نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں
روئیں گے ہم ہزار بار کو ئی ہمیں ستائے کیوں
مَیں سمجھتا ہوں کہ تفریح اگر گناہ ہے، تو پھر مرد حضرات یہ گناہ کیوں کرتے ہیں، اور اگر ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے ضروری ہے، تو پھر عورت کے لیے کیوں ممنوع ہے؟ تفریح کے مواقع مسدود ہونے کی وجہ سے عورت ذہنی و جسمانی امراض اور نفسیاتی الجھنوں کا شکا رہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے اس کے ہاں پیدا ہونے والے بچے بھی لاغر و بیمار ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں کند ذہن بچوں کی کثرت اور جینیس بچوں کی قلت کی وجہ بھی ماؤں کی ابتر ذہنی صحت، غیر متوازن غذا اور تفریح سے محرومی ہے۔
مگر ہم مسلمانوں نے جس طرح قرآن کو احترام کے نام پر طاقوں میں رکھ کر سیکھنے اور عمل کرنے کے لیے برأت کا اعلا ن کیا ہے، اسی طرح عورت کو بھی احترام کے نام پر بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر رکھا ہے جو سراسر ظلم اور نا انصافی ہے۔

اشتہار / Advertisement
اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

★ ★ ★ ★ ★
اوسط ریٹنگ: ⭐ 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔