کالم نگاری

بورڈ کے امتحانی نظام پر نظرِ ثانی ناگزیر ہے

وحید اللہ قرار

✍️ کالم نگار: وحید اللہ قرار

اشتہار / Advertisement

میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات کے نتائج کے اعلان کے بعد پاکستان بھر میں کم امتحانی نمبروں سے منسلک خود کشی، زہریلے مواد کھانے یا خود کو نقصان پہنچانے کے واقعات عام طور پر رپورٹ ہوتے ہیں۔ طلبہ پر نفسیاتی بوجھ بڑھانے میں سماجی توقعات اور دیگر کئی وجوہات کے علاوہ ایک وجہ روایتی امتحانی سیٹ اَپ اور سیکھنے سکھانے کا طریقۂ کار بھی ہے۔ یہ روایتی امتحانی سیٹ اَپ اکثر طلبہ پر غیر ضروری دباؤ ڈالتا ہے۔ انھیں مضامین کی گہری سمجھ کو فروغ دینے کی بجائے رٹے لگانے پر مجبور کرتے ہیں، جس سے نہ صرف تخلیقی صلاحیتوں اور تنقیدی سوچ پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، بلکہ فکری ترقی اور علم سیکھنے کی بجائے بڑا اسکور کرنے کی کوشش نوجوانوں کو ذہنی طور پر پس ماندہ رکھتی ہے۔
کم نمبرات حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے اس روایتی طریقۂ امتحانات کے نتائج شدید ہو سکتے ہیں۔ وہ خود اعتمادی کھو جاتے ہیں اور ان میں ناکامی کا احساس پیدا ہوجاتا ہے۔ نتیجتاً نوجوان ذہنوں میں تناو اور اضطراب کا امکان بڑھ جاتاہے، تعلیمی دلچسپیوں میں کمی اور یہاں تک کہ ڈپریشن کے احساسات شروع ہوجاتے ہیں ۔
اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے امتحانی نظام پر نظرِ ثانی اور اس کی اصلاحات کرکے مکمل طور پر تحریری امتحانات کی بجائے عملی اسائنمنٹس، پروجیکٹس اور پریزنٹیشنز کو نظام میں ضم کیا جائے۔ یہ عمل طلبہ کو حقیقی دنیا میں پنپنے کا ذریعہ بنے گا۔
اس کے علاوہ گروپ ڈسکشن، مباحثے اور مسائل حل کرنے کی سرگرمیوں اور مختلف زاویوں سے تنقیدی سوچ کے ماحول کو پروان چڑھایا جائے۔ اس سے نہ صرف امتحانات سے وابستہ دباو میں کمی آئے گی، بلکہ طلبہ کو ایسی ضروری مہارتوں سے بھی لیس کیا جائے گا، جو کلاس روم سے باہر تک پھیلی ہوئی ہیں۔ اس طرح والدین اور معاشرے کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ محض ایک امتحان کسی بچے کی قدر یا صلاحیت کا تعین نہیں کرتا۔ بچے یا بچی کی حوصلہ افزائی اور حمایت پر ترجیح دینی چاہیے۔
قارئین! یہ وقت کا تقاضا ہے کہ پاکستان کے تعلیمی نظام کو روایتی امتحانات کی قید سے باہر نکال کر مزید جامع اور لچک دار بنانا چاہیے۔ اس طرح نوجوانوں کے ذہنوں کو پھلنے پھولنے میں مدد ملے گی۔ وہ جو بھی نمبر حاصل کرتے ہیں، عملی زندگی میں ان نمبروں کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔اپنے آس پاس جائزہ لیجیے کہ کتنے ہی ایسے افراد ہیں جو بیس سال پہلے کلاس میں ایوریج تصور کیے جاتے تھے۔ آج پورے معاشرے کا بوجھ ان کے کاندھوں پر پڑا ہوا دکھائی دے گا اور بیشتر ٹاپرز جو اپنے ایک خول میں بند ہوتے ہیں، ان کی معاشرے میں کیا کنٹری بیوشن ہے؟

اشتہار / Advertisement

اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

ایک تبصرہ

  1. E
    Engr Ishtiaq Ahmad
    9 August 2024 1:32 am

    Bilkol ap ny 100% drust baat ke hai sir humy is soch ko badalna hoga is nizam ko badalna hoga

    English Comment

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔