کالموحید اللہ قرار

شہرِ اقتدار ڈکیتوں کے رحم و کرم پر

’’کتنے اچھے ڈاکو ہیں کہ صرف ہزاروں ڈکیتیاں کر رہے ہیں۔ اگر چاہیں، تو یہ لاکھوں اور کروڑوں بھی کرسکتے ہیں۔ کیوں کہ پوچھنے والا کوئی نہیں۔‘‘
یہ خیال میرے ذہن میں تب آیا، جب اسلام آباد میں ڈکیتی کے بعد پولیس کے ساتھ واسطہ پڑا۔ جرائم اور معاشرے کا تعلق گہرا ہے۔ کوئی بھی معاشرہ جرائم سے پاک نہیں ہوسکتا۔ البتہ جرائم کی شرح میں کمی کی کوشش کرنے، مجرموں تک رسائی اور متاثرین کو انصاف دلانے کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ کسی بھی ملک، شہر اور معاشرے میں لوگ کتنے محفوظ ہیں!
اس وقت پاکستان بھر میں جرائم اور بالخصوص سٹریٹ کرائم میں عروج پر ہیں، لیکن پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں یہ توقع کی جاتی ہے کہ یہاں سٹریٹ کرائمز کی تعداد کم ہوگی، پولیس الرٹ ہوگی اور انتظامیہ بیدار ہوگی، مگر یہ توقعات بیش تر اوقات حقائق کے برعکس ثابت ہو رہی ہیں۔ حال ہی میں اسلام آباد کے سیکٹر ’’جی ایٹ‘‘ میں بڑی شاہ راہ پر شام 7 بجے سرِعام اسلحے کی نوک پر مجھے لوٹا گیا۔ جو ہوا، سو ہوا…… مگر افسوس تب ہوا جب میں پولیس تھانہ ’’کراچی کمپنی‘‘ پہنچا۔
تھانہ پہنچے پر توقع تھی کہ شہرِ اقتدار کا تھانہ ہونے کی وجہ سے جلد ہی پولیس حرکت میں آئے گی۔ کم از کم روزنامچہ رپورٹ، جائے وقوعہ تک جانے یا دیگر ضروری اقدامات کیے جائیں گے، مگر تھانے کے گیٹ پر دو پولیس اہل کاروں کے علاوہ کوئی وہاں کوئی موجود ہی نہیں تھا۔ مجھے تھانہ کے باہر گیٹ سے دور سڑک پر انتظار کرنے کو کہا گیا۔ بہ ہرحال اصرار کرنے پر تھانہ داخلے کی اجازت دے دی گئی اور یوں جیسے مَیں نے کابل ’’فتح‘‘ کرلیا ہو، تسلی ہوئی۔
پھر خالد روکھڑی نامی ڈیوٹی پر 30 منٹ کے انتظار کے بعد پہنچا اور ٹیلی فون پر لوگوں کو دھمکیاں دینے میں مصروف ہوگیا۔ جب مَیں نے بہ صد احترام جناب اے ایس آئی کو اپنی روداد سنانی شروع کی، تو اس نے بغیر کسی دل چسپی کے سنی اور پھر پتا اور پیشہ پوچھنے کے بعد مجھ سے عجیب و غریب سوالات شروع کیے۔ مسلسل یہی تاثر دیا گیا کہ اس رپورٹ سے کچھ نہیں ہوتا، دل صبر کرو۔ اس دوران میں ایک مختصر کہانی بھی سنائی کہ جب مریض ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے، تو ڈاکٹر آہستہ آہستہ سمجھاتا ہے کہ مسئلہ کیا ہے۔ بہ ہرحال کافی اصرار کے بعد مجھے درخواست لکھنے کا موقع دیا گیا۔ درخواست کے بعد اس پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا: ’’یہ کاغذ ضائع کرنے والی باتیں ہیں۔‘‘ پھر ڈیوٹی آفیسر نے ایک ایک لفظ بتاتے ہوئے مجھ سے ایک درخواست لکھوائی، جس میں ’’گن پوائنٹ‘‘ کا لفظ نکال دیا گیا۔ اس درخواست پر بھی ڈائری نمبر نہیں دیا گیا اور مجھے رخصت کر دیا گیا۔
دو دن انتظار کے بعد جب رپورٹ درج نہیں کی گئی، تو مَیں نے اسلام آباد پولیس کو بہ ذریعہ ایپ شکایت درج کرائی۔ وہاں سے ایس ایچ اُو اور ہیڈ محرر کا نمبر ملا۔ ہیڈ محرر کے کہنے پر تیسری تفصیلی درخواست مَیں نے لکھ کر بھیج دی، جس پر ’’اوکے، سر!‘‘ کا جواب تو ملا، لیکن سر بے چارہ بے سر و سامان اور بے کس ہی رہ گیا۔ سوشل میڈیا مہم، میڈیا کے ذریعے اطلاع، مختلف بااثر شخصیات کے توسط سے رسائی، وزارتِ داخلہ سے لے کر اسلام آباد پولیس کے اعلا افسران کو ای میل سب کچھ ہوا، مگر کچھ بھی نہیں کیا گیا اور پھر ایک دوست کے توسط سے آئی جی پی تک رسائی ہوئی۔
بالآخر ایف آئی آر درج ہوئی۔ کاپی ملی، تاہم متعلقہ ڈیوٹی آفیسر کو کیا سزا ملی، یا انکوائری کی گئی؟ کچھ پتا نہ چلا۔ اب اُس ایف آئی آر پر کیا کارروائی ہوگی؟ یہ بھی معلوم نہیں۔ البتہ ایک قدم اٹھایا گیا۔
اس سارے معاملے کے بعد انٹرنیٹ کے ذریعے اسلام آباد میں ہونے والی ڈکیتوں کی وارداتوں کے بارے میں معلوم کرنے کی کوشش کی، تو کیفیت عجیب محسوس ہوئی۔ کیوں کہ یہ یہاں معمول کی باتیں ہیں۔ یہاں تک کہ ڈاکو کئی لوگوں کو قتل بھی کرچکے ہیں اور بالخصوص تھانہ ’’کراچی کمپنی، جی نائن‘‘ کی حدود میں۔
اس تمام صورتِ حال سے مجھے یہ معلوم ہوا کہ شہرِ اقتدار کے مکین بھی ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر ہیں اور اگر پولیس اور دیگر اداروں کا رویہ یہی رہا، تو وہ دن دور نہیں جب ملک کے کسی بھی شہر سے ڈاکو لوگوں کو اُٹھا کر ’’نئے کچے‘‘ (اسلام آباد) لایا کریں گے۔
اسلام آباد پولیس سے درخواست ہے کہ اگر سیاسی انتقام والی ایف آئی آرز سے فرصت ملی، تو اس مسئلے پر بھی توجہ مرکوز کیجیے۔

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں