جناب ڈاکٹرعالم خان کے بے وقت انتقال نے اُن کے چاہنے والوں، دوستوں اور پوری کمیونٹی کی زندگی میں ایک خلا چھوڑ دیا ہے۔
معروف ماہرِ تعلیم، سماجی کارکن اور ڈھیر سارے لوگوں کی رہ نمائی کرنے والے جناب عالم خان کے انتقال نے پورے علاقے کو صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔
مجھے عالم خان کو پانچویں جماعت کے دنوں سے جاننے کا شرف حاصل ہے، جب ہماری دوستی کا آغاز شوخ مزاجی کے سبب خوش گپیوں سے ہوا۔ جیسے جیسے ہم بڑے ہوئے، ہماری دوستی گہری ہوتی گئی اور ہم لازم و ملزوم کی صورت اختیار کرگئے۔
ہم دوستوں کے ایک قریبی گروپ کا حصہ تھے، جس میں شیرین بہار، فضل اکبر، محمد اسماعیل، بخت اللہ اور ڈھیر سارے دوسرے دوست شامل تھے۔ ایک ساتھ مل کر ہم نے جوانی کے چیلنجوں کا سامنا کیا۔
ڈاکٹر عالم خان کی علمی قابلیت اور فکری تجسس نے اُنھیں پاکستان میں ماسٹرز کی ڈگری اور انگلینڈ سے تعلیم میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کی ہمت دی۔ خامیوں سے پاک تعلیمی ادارے کے قیام کے لیے تگ و دو کرتے ہوئے وہ اپنے دیگر دوستوں کے ساتھ مل کر ’’ایلم ویلی پبلک سکول‘‘ کے نام سے ایک بہترین تعلیمی ادارہ کھولنے میں کام یاب ہوئے۔
ایلم ویلی پبلک اسکول، اسلام پور کے شریک بانی کے طور پر ڈاکٹر عالم خان نے آنے والی نسلوں کے ذہن کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ اُنھوں نے اپنی سرکاری ملازمت کا آغازمحکمۂ تعلیم میں بہ طور مدرس کیا، جہاں اُنھوں نے امتیازی خدمات انجام دیں۔ اپنے طالب علموں کے لیے اُن کی لگن اور تعلیم کے لیے اُن کے جذبے نے بے شمار نوجوان ذہنوں کو متاثر کیا۔ اپنے کام کو صداقت سے انجام دینے والے تعلیم پرست ڈاکٹرعالم خان تیزی سے آگے بڑھتے گئے اور بہت جلد پرنسپل کے عہدے تک پہنچ گئے۔
ہمارے دسویں جماعت کے تقریباً 85 ہم جماعت دوستوں میں سے ڈاکٹرعالم خان واحد شخصیت تھے، جو اس مقام تک پہنچنے میں کام یاب ہوئے۔
سوات کے کئی ایک سکولوں میں پرنسپل کے طور پر خدمات انجام دینے کے بعد غالباً دو سال قبل ڈاکٹر عالم خان گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول چتوڑ کے پرنسپل بنے۔ اُن کی بے لوثی، ہم دردی اور سخاوت نے بے شمار طلبہ، ساتھیوں اور دوستوں میں تعلیمی میدان میں آگے بڑھنے کی ہمت پیدا کی۔
تعلیمی خدمات کے علاوہ ڈاکٹرعالم خان کی سماجی خدمات بھی روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں۔ کالج کے دنوں میں دوستوں نے باہمی مشاورت اور تعاون سے ’’سوشل ویلفیئر سوسائٹی، اسلام پور‘‘ کی بنیاد رکھی۔ اُن دنوں ڈاکٹر عالم خان سمیت دیگر چند دوستوں نے پہلے سے رجسٹرڈ ’’الفلاح تنظیم، اسلام پور‘‘ کو فعال کیا۔ چوں کہ دونوں اداروں کا مطمحِ نظر علاقائی ترقی اور خوش حالی تھا، اس لیے کچھ عرصہ گفت و شنید کے بعد ’’سوشل ویلفیئر سوسائٹی، اسلام پور‘‘ کو ’’الفلاح تنظیم‘‘ میں ضم کر دیا گیا۔
اس طرح ڈاکٹرعالم خان پہلی کابینہ کے مالیاتی اُمور کے نگران رہے۔ بچوں کو مفت ٹیوشن پڑھانا ہوتا، یا پھر کسی غریب کو سکول بھیجنا ہوتا، گاؤں میں پانی کا مسئلہ ہوتا، یا پھر کوئی ترقیاتی منصوبہ…… ڈاکٹرعالم خان اپنی بساط سے بھی زیادہ بوجھ اُٹھاتے۔ گاؤں کے گلی کوچوں کی تعمیر اور علاقے کے ماحول کو صاف رکھنے میں ڈاکٹرعالم خان پیش پیش تھے۔
ڈاکٹر عالم خان ایک حقیقی جوہر، ایک چمکتا ہوا ستارہ اور رہ نمائی کرنے والے انسان تھے۔ وہ ایک شایستہ اور شریف النفس انسان تھے، جن کی شفقت اور محبت ہر کسی کے دل کو چھو لیتی تھی۔ اُن کے منطقی اور تجزیاتی ذہن نے اُنھیں ایک زبردست بحث کرنے والا بنا دیا اور پیچیدہ خیالات کو واضح اور درستی کے ساتھ بیان کرنے کی اس کی صلاحیت نے بہت سے لوگوں کو متاثر کیا۔ شفافیت اور احتساب کے لیے اُن کی لگن اٹل تھی اور تعلیم اور سماجی بہبود کے لیے اُن کی وابستگی غیر متزلزل تھی۔ اُن کی شان دار زندگی اُن کی طاقت، لچک اور ہمت کا منھ بولتا ثبوت تھی۔
پھیپھڑوں کے کینسر کے خلاف ڈاکٹر عالم خان کی جنگ اُن کے غیر متزلزل جذبے اور غیر متزلزل ایمان کی ایک پُرجوش نشان تھی۔ اگرچہ اُن کی جسمانی موجودگی ختم ہوسکتی ہے، لیکن اُن کی میراث ہماری حوصلہ افزائی کرتی رہے گی کہ ہم اچھائی کے لیے کوشش کریں اور اپنے ارد گرد کی دنیا پر مُثبت اثر ڈالیں۔
ڈاکٹر عالم خان تعلیم کے حقیقی چمپئن تھے اور خواندگی اور سیکھنے کے فروغ کے لیے اُن کی اَن تھک کوششوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ جب ہم اُن جیسے غیر معمولی افراد کو الوداع کہتے ہیں، تو ہمیں تسلی ملتی ہے کہ اُن کی یاد اَن گنت زندگیوں کے ذریعے زندہ رہے گی، جن کو اُنھوں نے چھوا اور جن اداروں کے قیام میں اُنھوں نے مدد کی۔
دعا ہے کہ مرحوم ڈاکٹر عالم خان کی شان دار زندگی ہم سب کے لیے اُمید اور تحریک کی کرن ثابت ہو۔ سکون سے آرام کریں جناب ڈاکٹرعالم خان……! آپ کی وراثت کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ آپ کو ہمیشہ ایک سچے ہیرو اور ایک چمکتے ستارے کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ اللہ آپ کے درجات بلند فرمائے، آمین! مانتا ہوں کہ
رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئی
تم جیسے گئے، ایسے بھی جاتا نہیں کوئی
متعلقہ خبریں
- کمنٹس
- فیس بک کمنٹس
