کالم نگاری

تاریخی اعتراف کا لمحہ

محمد ریاض خان

دنیا کی قومیں غلطیاں کرتی ہیں، ٹھوکر کھاتی ہیں، لڑکھڑاتی ہیں، لیکن مہذب اور زندہ قومیں وہی کہلاتی ہیں۔ جو اپنی لغزشوں کا ادراک کرکے ان کی اصلاح کی راہ نکالتی ہیں۔
پاکستان کی حالیہ سیاسی تاریخ میں ایک ایسی ہی لغزش نے جنم لیا، ایک ایسی خطا جو محض ایک فرد، ایک جماعت یا ایک ووٹ کی حد تک محدود نہ رہی، بل کہ قوم کے فکری، سماجی اور ریاستی خط و خال تک پھیل گئی۔ یہ لغزش عمران خان اور پاکستان تحریکِ انصاف کی اندھی تقلید تھی۔
ہمیں اب یہ اعتراف کرنا ہوگا کہ ہم میں سے بہت سے لوگوں نے، خاص طور پر نوجوان نسل نے، ایک ایسے شخص کو ہیرو اور نجات دہندہ کا درجہ دیا، جس کی ذہنی ساخت، فکری دیانت اور سیاسی بصیرت آج مکمل طور پر بے نقاب ہوچکی ہے ۔
ہم نے عمران خان کو امیدوں کا استعارہ بنایا۔ سوشل میڈیا سے لے کر الیکٹرانک میڈیا تک اس کے گیت گائے، جلسوں میں اس کے نام کے نعرے لگائے، مگر ہم نے یہ نہ سوچا کہ جو شخص ریاستی اداروں کو کم زور کرے، آئینی بالا دستی کو چیلنج کرے، سفارتی تنہائی کو گلے لگائے اور سیاسی مخالفین کو غداری کا طعنہ دے، وہ آخرِکار پاکستان کے مستقبل کا محافظ کیسے ہوسکتا ہے……؟
عمران خان کا بیانیہ اور اُس کے پسِ پردہ عزائم کوئی معمولی سیاسی جدوجہد نہیں تھے۔ یہ دراصل ایک ایسا منظم منصوبہ تھا، جس کا مقصد پاکستانی ریاست کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنا، ادارہ جاتی ہم آہنگی کو توڑنا اور معاشرتی تقسیم کو ہوا دینا تھا۔
اگر یہ منصوبہ کام یاب ہوجاتا، تو آج پاکستان نہ صرف داخلی سطح پر خانہ جنگی کا شکار ہوتا، بل کہ عالمی سطح پر بھی ایک تنہا اور کم زور ریاست بن چکا ہوتا۔ ایک ایسا ملک جس کی معیشت زمین بوس، سفارت کاری ناپید اور سرحدیں غیر محفوظ ہوتیں…… لیکن تاریخ کا دھارا پلٹا۔ پاکستان کی موجودہ عسکری قیادت جس کی دانش، تدبر اور حب الوطنی پر پوری قوم کو فخر ہے نے اس سازش کو بے نقاب کیا۔
یہی عسکری قیادت تھی، جس نے آئین کی روشنی میں ریاستی سالمیت کی حفاظت کی، عمران خان کے خطرناک مشن کے خفیہ گوشوں کو آشکار کیا اور قوم کے سامنے وہ سچ رکھا جسے برسوں پردوں میں چھپایا گیا تھا۔
یہ آسان معرکہ نہ تھا۔ اس راستے میں بدنامی، الزامات اور کردار کشی کی آندھیاں چلیں…… لیکن افواجِ پاکستان نے صبر، بردباری اور تدبر سے اپنا قومی فریضہ نبھایا۔
آج ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اگر پاکستان کی عسکری قیادت یہ بروقت اقدام نہ کرتی، تو شاید ہم بہ طور قوم آج صفحۂ ہستی پر اس شان سے موجود نہ ہوتے ۔
افواجِ پاکستان نے نہ صرف عمران خان کے منصوبے کو بے نقاب کیا، بل کہ پاکستان کے عالمی تاثر (International Impression) کو بھی سنبھالا دیا۔ انھوں نے دنیا کو باور کروایا کہ پاکستان ایک سنجیدہ، بالغ اور ذمے دار ایٹمی ریاست ہے، جو آئین و قانون کی پاس داری، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور علاقائی امن کی علم بردار ہے۔
اب وقت ہے کہ ہم اجتماعی طور پر اپنے ماضی کی لغزشوں کا اعتراف کریں۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو سچائی بتانی ہوگی۔ اُنھیں جذباتی نعروں کی بہ جائے فکری بالیدگی دینی ہوگی۔
ہمیں بہ طور قوم افواجِ پاکستان اور موجودہ عسکری قیادت کے شانہ بہ شانہ کھڑا ہونا ہوگا۔ کیوں کہ یہی وہ واحد ادارہ ہے جو اس وقت پاکستان کے استحکام، سالمیت اور وقار کی ضمانت ہے۔ یہ لمحہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا فکری اور اخلاقی اعتراف ہے ۔ یہ لمحہ ہے اپنے ماضی کی خطاؤں پر ندامت کا، اپنے حال کی اصلاح کا، اور اپنے مستقبل کی تعمیر کا۔
ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد، اپنے اداروں میں ہم آہنگی اور اپنی قوم میں بصیرت پیدا کرنا ہوگی، تاکہ کوئی دوسرا عمران خان، کوئی اور سازش، پھر کبھی ہمیں اس آزمایش میں نہ ڈال سکے۔ پاکستان زندہ باد، افواجِ پاکستان پایندہ باد!

اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔