Swat

دریائے سوات، سیلابی ریلہ 13 افراد بہا لے گیا

(باخبر سوات ڈاٹ کام)مینگورہ میں دریائے سوات میں سیلابی ریلہ خواتین اور بچوں سمیت13 افراد کو اپنے ساتھ بہا کر لے گیا،جاں بحق افراد کا تعلق سیالکوٹ اور مردان سے ہے۔ سیاح ڈیڑھ گھنٹے تک مدد کے لئے چیخ و پکار کرتے رہے۔ وائرل ویڈیو میں خاندان کے افراد اپنی آنکھوں سے اپنے پیاروں کو دریا میں ڈوبتے ہوئے دیکھتے اور چیخ و پکار کرتے نظر آتے ہیں۔ بچ جانے والے خاندان کے ایک فرد محمد حسین نے بتایا کہ ہم ایک کوسٹر میں ڈسکہ سیالکوٹ سے جمعہ کی صبح مینگورہ سوات پہنچے اور بائی پاس پر ایک ریسٹورنٹ میں ناشتا کیا۔ ناشتے کے بعد کچھ لوگ جو رات بھر کا سفر کرکے تھک چکے تھے، دریائے سوات کے کنارے دریا کے پانی اور یخ ہوا سے محظوظ ہورہے تھے کہ اتنے میں اچانک سیلابی ریلہ آیا۔ عینی شاہدین کے مطابق ریلہ اس ہوٹل میں بھی داخل ہوگیا، جہاں سیاحوں نے ناشتا کیا تھا۔ جیسے ہی پانی تیز ہوا تو سیاح قریب میں کرش مافیاکے لگائے ہوئے بجری کے ڈھیر پر چڑھ گئے اور مدد کے لئے چیخ و پکار کرتے رہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ریسکیو 1122 کو بار بار فون کئے، لیکن ایک گھنٹہ اور پینتیس منٹ تک چیخ و پکار کے بعد خاندان کے افراد ایک دوسرے کی آنکھوں کے سامنے ایک ایک کرتے ڈوبتے گئے۔ اور جب تمام افراد ڈوب گئے، تو ریسکیو کے اہلکار تبھی پہنچ گئے۔ ڈپٹی کمشنر سوات کے مطابق اب تک مختلف علاقوں میں دریائے سوات سے 8 افراد کی لاشیں نکالی جاچکی ہیں، جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ مزید لاشوں کی تلاش جاری ہے۔ حادثے میں جن افراد کی لاشیں ملی ہیں، ان میں سات سالہ ایان ساکن سیالکوٹ، 45 سالہ روبینہ سیالکوٹ، 18سالہ عجوہ سیالکوٹ، 16 سالہ شرمین سیالکوٹ، 18 سالہ مراب سیالکوٹ، 20سالہ تضمین سیالکوٹ، ایشال نصیر مردان اور فرمان حسین مردان شامل ہیں۔ دریائے سوات میں لاپتہ افراد میں 17 سالہ عبداللہ سیالکوٹ، 14 سالہ ایشال سیالکوٹ، 10 سالہ آئمہ سیالکوٹ، 8 سالہ انفال سیالکوٹ اور دانیال نصیر مردان شامل ہیں۔ وائرل ویڈیو کے بعد سوشل میڈیا پر انتظامیہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ڈپٹی کمشنر سوات کی ہدایت پر محکمہ معدنیات نے دو ماہ قبل دریائے سوات کو 8 بلاک میں تقسیم کرکے بہت کم قیمت پر کرش مافیاکے ٹھیکیداروں کو ٹھیکے پر دیا تھا، جس کے بعد ٹھیکیداروں نے دن رات ایک کرکے دریا میں بڑے بڑے کھڈے کھودے، جن کی وجہ سے دریائے سوات میں زیادہ تر ڈوبنے والے افراد ان کھڈوں میں پھنس کر جاں بحق ہوجاتے ہیں۔ اس سے پہلے اسنٹھیکوں کے بعد سے ایک درجن کے قریب مذکورہ کھڈوں میں پھنس کر جاں بحق ہوچکے ہیں۔ دوسری جانب پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو تحریری طور پر آگاہ کیا تھا کہ اس ہفتے سیلاب کا خطرہ موجود ہے۔ سیلابی ریلہ جو دور سے آرہا تھا لیکن محکمہ ایری گیشن کو اس بارے بھنک تک نہ پڑی۔

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں