کالم نگاری

سوات، AIOU کے طلبہ و طالبات میں لیپ ٹاپ کی تقسیم

تصدیق حسین بابو

✍️ کالم نگار: تصدیق حسین بابو

اشتہار / Advertisement

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ایشیا کی پہلی اور دنیا کی چوتھی میگا یونیورسٹی ہے۔ جہاں سب سے زیادہ طلبہ کوالٹی ایجوکیشن سے بحرہ ور ہورہے ہیں۔ فاصلاتی نظام تعلیم کے ذریعے وہ طلبہ و طالبات جو تعلیمی اداروں کی دوری، ملازمت کی مجبوری، کسی بھی قسم کی معذوری یا کسی اور وجہ سے اپنی تعلیم پوری نہ کرسکیں، وہ اس یونیورسٹی سے گھر بیٹھے اپنے ’’ڈور سٹیپ‘‘ پر سرٹیفکیٹ، اسناد اور ڈگریاں پاکر اپنی، اپنے اہل و عیال اور اپنے ملک کی ضروریات پورا کررہے ہیں۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا نظامِ تعلیم سمسٹر وائز ہوتا ہے۔ اس لیے اس کا نصاب طلبہ و طالبات پر یک مشت بوجھ نہیں بنتا بلکہ ٹیوٹوریل میٹنگز، مختلف قسم کی ورکشاپس اور مشقیات سے آسان اور قابل فہم بنا دیا جاتا ہے۔ نصابی کتب جدید تعلیمی تحقیقات کا ثمرہ اور نچوڑ ہوتی ہیں، جو قدیم، دقیانوسی اور فضول نہیں ہوتیں بلکہ نت نئی ضروریات اور آنے والے چیلنجز کے مطابق ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج یہ یونیورسٹی ایشیا کی پہلی اور دنیا کی چوتھی میگا یونیورسٹی ہے جہاں کی ڈگریاں نہ صرف ایچ ای سی سے منظور شدہ ہوتی ہیں بلکہ دنیا بھر میں انہیں منظور اور قبول کیا جاتا ہے۔
یونیورسٹی ہذا اپنے مستحق طلبہ و طالبات کو بھرپور سہولیات اور مراعات بھی دیتی ہے۔ داخلوں اور فیسوں میں نادار، غریب، یتیم، معذور اور شہدا کے بچوں کے لیے خصوصی پیکیجز ہیں۔ اس کے علاوہ نابینا افراد کے لیے تو بالکل ہی تعلیم مفت ہے۔ ریڈیو، ٹی وی اور پرنٹ میڈیا کی دیگر سہولیات اس پر مستزاد ہیں۔ نیز ذہین طلبہ طالبات جو پوسٹ گریجویٹ پروگرامز میں 65 فی صد سے زائد نمبرات لیتے ہیں، انہیں وزیراعظم لیپ ٹاپ سکیم کے تحت مفت لیپ ٹاپ بھی دیئے جاتے ہیں۔ بقول اقبال
کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں
ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں
4 نومبر 2017ء کو سوات کے ’’خپل کور ماڈل سکول‘‘ میں اسی حوالے سے ’’لیپ ٹاپ‘‘ کی تقسیم کا پروگرام منعقد کیا گیا تھا، جس میں یونیورسٹی ہذا کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شاہد صدیقی صاحب مہمانِ خصوصی تھے، لیکن وہ بوجوہ نہ آسکے، تو اُن کی جگہ ڈائریکٹر ریجنل سروسز ڈاکٹر میاں عارف سلیم عارف صاحب تشریف لائے۔ ان کے ہمراہ جناب محمد طارق (ڈائریکٹر سٹوڈنٹس افیئر) اور جناب عامر سعید (اسسٹنٹ ڈائریکٹر سٹوڈنٹس افیئر) بھی موجود تھے۔ ’’خپل کورماڈل سکول‘‘ کا بڑا ہال پرنسپلز، پروفیسرز، ٹیوٹرز، ناظمین و کونسلرز، معزز شہریوں، صحافیوں اور طلبہ وطالبات سے بھرا ہوا تھا۔ بونیر، شانگلہ، دیر کے علاوہ مدین سے پرنسپل شہزادہ اور مفتی صاحب بھی تشریف لائے تھے۔ سٹیج کے فرائض ہر دلعزیز شخصیت حافظ محمد علی اور اُردو کے پاریکھ جناب اختر حسین ایس ایس کے سپرد تھے۔ پروگرام میں متحرک نظر آنے والے منتظمین میں اسد اقبال اعوان، فیض اللہ، محمد خان، محمد اعجاز، فضل امین، نذیر احمد، شاہ ایران، شہاب سواتی، رحیم سواتی، حیدر علی، محمد علی، زینب بی بی اور عائشہ بی بی شامل تھے۔ تلاوتِ کلام پاک کے فرائض قاری برکت علی نے پورے کئے۔ نعت اور ملی نغمہ سکول کے بچوں نے پیش کئے۔ اُن کے بعد ڈپٹی ریجنل ڈائریکٹر مکرمی سلطان روم (جو حال ہی میں حج کرکے آئے ہیں) نے مہمانوں اور شرکا کی آمد کا شکریہ ادا کیا۔ لیپ ٹاپ حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کو مبارک باد دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’سوات میں ریجنل سنٹر‘‘ 1989ء میں قائم ہوا۔ چھے اضلاع بشمول ایجنسیاں اس کے زیرنگیں ہیں۔ کل ملا کر یہاں کی آبادی 82 لاکھ بنتی ہے، جس میں پچیس ہزار سے کچھ اوپر طلبہ و طالبات ہر سمسٹر میں یہاں داخلہ لیتے ہیں جن کیلئے ہم دو ہزار ٹیوٹرز تعینات کرتے ہیں۔ یہاں 29 امتحانی سنٹرز اور چھے کوآرڈنیٹرز ہیں۔ انہوں نے اپنی تقریر اس شعر پہ تمام کی:
یوں تو پتھر کی بھی تقدیر بدل سکتی ہے
شرط یہ ہے کہ اُسے دل سے تراشا جائے
ان کے بعد رانا محمد طارق جاوید (ڈائریکٹر سٹوڈنٹس افیئرز) نے یہاں کے لوگوں کی مہمان نوازی، یہاں کے قدرتی حسن اور خاص کر یہاں کے لوگوں کی معانقت و مصافحت کے انداز کو خوب سراہا اور انہیں خلوص کا پیکر کہا۔
آخر میں صدرِ محفل ڈاکٹر میاں عارف سلیم صاحب نے دل موہ لینے والے انداز میں پرتپاک استقبال پر اہلیانِ سوات کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم لیپ ٹاپ سکیم کے تحت پہلے فیز میں ہمیں 67 لیپ ٹاپ ملے۔ آج فیز III میں 2500 تک لانے کا سارا سہرا ہمارے وائس چانسلر جناب ڈاکٹر شاہد صدیقی کے سر جاتا ہے۔ جنہوں نے دن رات محنت کرکے یونیورسٹی کے وقار کو اس مقام تک پہنچادیا ہے۔ اس موقع پر کھچا کھچ بھرے ہال نے کھڑے ہوکر دیر تک تالیاں بجا کر اُن کا شکریہ ادا کیا۔ بعد ازاں طلبہ و طالبات میں ’’لیپ ٹاپ‘‘ تقسیم کئے گئے۔
آخر میں تمام شرکا کے لیے چائے کا بھی بندوبست کیا گیا تھا۔

اشتہار / Advertisement
اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔