کالم نگاری

سیاست اور لیڈر شپ کا کمال

انتظار خان

✍️ کالم نگار: انتظار خان

اشتہار / Advertisement

سکندرِ اعظم جو بچپن سے اتنے کمالات کا مالک نہیں تھا۔ وہ ارسطو کا شاگرد رہا۔ ارسطو سے جنگی معرکوں کے بارے میں مشورہ لیتا۔ 20 سال کی عمر تک سکندر میں کوئی کمال نہ تھا لیکن اس کو ارسطو جیسے استاد اور ماں جیسی ’’موٹیویٹر‘‘ ملی، جس نے بے جان سکندر کے جسم میں جنگجویانہ و قائدانہ صلاحیتیں پیدا کیں۔ سکندر اعظم کی پوری شخصیت، نفسیات، فتوحات اور اس کی پوری زندگی سے میں نے ایک چیز سیکھی کہ وہ تمام امور باہمی مشورے سے کرتا اور استادوں کے تجربات سے فائدہ اٹھاتا۔ اس کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ اجتماعیت کا قائل تھا۔ وہ P/PC Rule پر لاشعوری طور پر کاربند تھا۔ ایشیائی جنگوں اور فتوحات کے لیے روانہ ہونے سے پہلے اپنی پوری جائیداد اپنے جرنیلوں، سپہ سالاروں اور بے کس و نادار ساتھیوں میں بانٹ دیں، جس پر اس کی ماں سخت ناراض ہوئی اور رونے لگی۔ آپ نے ماں سے کہا کہ یہ خیرات اور تقسیم، دراصل مَیں وہ ٹیکس ادا کر رہا ہوں جو میں نے آپ جیسی ہستی کے پیٹ میں نو مہینے گزارے۔ اس حیران کن جملے پر اس کی ماں خاموش ہوگئی۔
اب آتے ہیں P/PC Ruleکی طرف۔ کامیاب لوگوں نے اپنی کامیابی کا نچوڑ اس رُول کی شکل میں سامنے رکھا ہے۔ انگریزی حرف ’’پی‘‘ سے مراد ’’پراڈکٹ‘‘ اور حروف ’’پی سی‘‘ سے مراد پراڈکٹ کیپیبلیٹی، یعنی جس چیز سے آپ کو پراڈکٹ مل رہا ہے، اس چیز کی دیکھ بھال، مرمت اور اس کی صلاحیت بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش۔ مثال کے طور پر ایک گاڑی والے کو گاڑی سے رزق مل رہا ہے، تو وہ کامیاب انسان تب مانا جائے گا جب وہ گاڑی سے پیسہ کمانے کا کام لے گا، لیکن ساتھ ساتھ گاڑی کی موجودہ صلاحیت کو برقرار رکھنے بلکہ اس کو موجودہ سے بہتر بنانے پر تھوڑی رقم کمائی ہوئی رقم سے خرچ کرے گا۔ لیکن اگر وہ مسلسل گاڑی چلاتا رہے گا اور اس پر کچھ خرچ نہیں کرے گا،تو ایک روز گاڑی کام دینا بند کر دے گی یا کم کام دینے پر آجائے گی۔
اس طرح ایک سیاستد ان کے لیے اس کے ورکرز، اس کے سپورٹرز اس کے ’’پی سی‘‘ہیں۔ یعنی اس کے ورکرز اس کے لیے میدان بناتے ہیں۔ اس کو بامِ عروج تک پہنچاتے ہیں۔ اس کو ووٹ دیتے ہیں۔ اس سے محبت کرتے ہیں۔ اس کے لیے سیاسی میدان بناتے ہیں۔ اس کے لیے لڑتے جھگڑتے ہیں۔ اپنی خوشیاں اس کی خوشیوں پر قربان کرتے ہیں۔ انہی قربانیوں سے، اجتماعی قربانیوں اور صلاحیتوں کا ایک پراڈکٹ نکلتا ہے، جسے سیاستدان کی سیاسی اڑان، سیاسی عزت اور سیاسی کامیابی کہتے ہیں۔ سیاستدان اگر پی؍ پی سی رول والا ہو، عقلمند ہو، تو وہ اپنے ورکروں کو اٹھاتا ہے۔ ان کی صلاحیتوں میں اضافہ کرتا ہے۔ وہ اضافہ تب ہوتا ہے جب سیاست دان ورکروں کے جذبات، ان کی قربانیوں، ان کی لگائی ہوئی صلاحیتوں اور لگے ٹائم کی قدردانی کرے۔
قارئین، دنیا میں سادہ فارمولا طے ہے کہ قدر کے بدلے قدر، عزت کے بدلے عزت۔ اگر لیڈر اپنے ورکروں کی قدردانی نہ کرے، ان کی قربانیوں کا احساس نہ کرے، ان کے ساتھ چال سے کام لے اور چالاکی کرے، تو یہ ورکروں کا نقصان نہیں بلکہ لیڈر کی کم عقلی ہے۔ اس کی کوتاہ نظری ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ سونے کی مرغی کے انڈے کا انتظار کرنے والے عقل مند ہیں اور جو سونے کی مرغی ذبح کرے، اس کی قسمت میں وقتی کامیابی تو آسکتی ہے، لیکن وہ اپنی کامیابیوں کا تسلسل برقرار نہیں رکھ سکتا۔ لہٰذا اپنے ورکروں کی قدر کی جائے، اس سے پہلے کہ وہ اپنا پیار و محبت واپس لیں۔

اشتہار / Advertisement
اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔