کالم نگاری

ماں بولی

ایج ایم کالام

✍️ کالم نگار: ایج ایم کالام

اشتہار / Advertisement

ماں ہی وہی ہستی ہے جو انسان کو انسانوں سے پیار کرنے کا گُر سکھاتی ہے۔ چوں کہ میرا موضوع ماں کی ہستی نہیں، اور نہ ہی میں اس قابل ہوں کہ ماں کے لیے تعریفی الفاظ چن سکوں۔ بہرحال میں صرف ’’ماں بولی‘‘ پر بات کروں گا کہ انسان بولنا سیکھتے ہوئے پہلا لفظ اپنی ماں سے ہی سیکھتا ہے۔ اور پھر وہ جس زبان میں بولنے لگتا ہے، اسے ماں بولی کہتے ہیں۔ ماں سے سیکھی ہوئی زبان کے ہر لفظ سے اتنا پیار جھلکتا ہے کہ ہر لفظ بولنے کے بعد ہونٹ چاٹنے کو جی چاہتا ہے۔
قارئین کرام، انسان کے سیکھنے کا عمل ماں کی گود سے شروع ہوتا ہے اور اس بات سے کوئی انحراف نہیں کرسکتا کہ انسان پیار کی زبان بہتر سمجھتا ہے، اور ماں بولی سے پیاری زبان بلا کون سی ہوسکتی ہے ؟ یہی وجہ ہے کہ یونیسکو نے سترہ فروری 1999ء میں ایک قرارداد منظور کی جس کے مطابق اس پیاری یعنی مادری زبان کے تحفظ اور فروغ کے لیے ’’اکیس فروری‘‘ کو مادری زبانوں کا عالمی دن قرار دیا۔
ملکی اداروں کی خستہ حالی کی سب سے بڑی وجہ بھی تعلیمی نظام کی ابتر صورتحال ہے۔ ہم بار بار یہ رونا رو رہے ہیں کہ ہمیں ڈگری یافتہ کے بجائے تعلیم یافتہ ہونا چاہیے، مگر حکومتی سطح پر کبھی یہ محسوس نہیں کیا گیا کہ تعلیم یافتہ افراد پیدا کرنے کے لیے ایسا نظام تعلیم ترتیب دیا جائے جس سے طلبہ صرف ڈگری نہیں بلکہ علم کا ایک خزانہ سمیٹ کر نکلیں۔ جب ہم مانتے ہیں کہ علم سیکھنے کے عمل کو ہی کہا جاتا ہے، تو ہمیں اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ جب بچہ سکول جاتا ہے، تو اُسے سیکھتے ہوئے کس دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے ؟
فرض کریں آپ کے بچوں کی مادری زبان گاؤری، توروالی یا کھوار ہے اورجب وہ پڑھنے کے لیے سکول جاتا ہے، تو اسے اردو یا انگریزی میں سکھایا جاتا ہے، تو کیا وہ کسی ایسی زبان میں کچھ سیکھ پائے گا جس زبان کو وہ خود نہیں سمجھتا؟ ظاہر ہے کہ بچہ اُس زبان میں سیکھے گا جس زبان کو وہ سمجھتا ہے۔ اگر کوئی دوسری زبان ہے، تو ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ اردو یا انگریزی کو پڑھنے اور لکھنے پر عبور تب حاصل ہوتا ہے جب طالب علم دسویں پاس کرتا ہے۔ اس سے ثابت یہ ہوا کہ دسویں تک جتنا سبق پڑھا وہ توتے کی طرح رٹ کر ہی پڑھا۔ پھر آگے پڑھتے ہوئے زبان کی دشواری تھوڑی کم ہوجاتی ہے۔
قارئین کرام! بخوبی جانتا ہوں کہ آپ اس سوال کا جواب بھی ڈھونڈرہے ہیں کہ اگراردو ہماری قومی زبان اور انگریزی عالمی رابطہ کے لیے زبان ہے، تو ہم اسے کیسے نظر انداز کرسکتے ہیں؟
اس کا آسان حل یونیسکو اور دیگر عالمی تنظیموں نے مل کر ڈھونڈ نکالا ہے، جسے کثیراللسانی تعلیم یعنی (Multilingual Education) کہا جاتا ہے۔
اس نظامِ تعلیم میں بچہ بنیادی تعلیم پلے گروپ سے کم از کم مڈل تک اپنی مادری زبان میں حاصل کرتا ہے۔ پہلی کلاس میں مختلف اشکال اور آوازوں کے ذریعے استاد بچوں کو کھیل کود میں اپنی زبان میں ہدایات دے کر سکھاتا ہے۔ اس کے بعد اگلی کلاس میں بچوں کو تمام مضامین مادری زبان میں ہی پڑھائے جاتے ہیں۔ اس کے بعد اردو اور انگریزی کو بھی محض سیکھنے کے لیے شامل کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد جوں جوں بچہ اگلی جماعتوں میں جاتا ہے، مادری زبان کم جب کہ اردو اور انگریزی کے مضامین بڑھتے جاتے ہیں۔ یوں جب بچہ بنیادی تعلیم سے فارغ ہوتا ہے، تو وہ اپنی مادری زبان میں بہتر سیکھ جاتا ہے اور ساتھ ساتھ اردو اور انگریزی جو کہ سیکھنا ناگزیر ہے، وہ بھی سیکھ جاتا ہے ۔
اب اگر اعلیٰ تعلیم کے لیے خواہ وہ ملکی تعلیمی اداروں میں جاتا ہے یا بیرونی اسے سیکھنے کی زبان میں دشواری سامنے نہیں آتی۔
یہاں پر قابل فخر بات یہ ہے کہ مختلف غیر سرکاری تنظیموں نے ایسے سکولوں کا نظام شروع کیا ہوا ہے۔ سوات کے خوبصورت علاقہ کالام، اپر دیر، مٹلتان اور اتروڑ میں بولی جانے والی زبان ’’گاؤری‘‘ کے چھے کثیراللسانی سکول چل رہے ہیں۔ اسی طرح بحرین اور مضافاتی علاقوں میں بولی جانے والی زبان ’’توروالی‘‘ کے چار سکول چل رہے ہیں۔ اس کے علاوہ انڈس کوہستانی، شینا، کھوار، پلولا اور دیگر مختلف چھوٹی زبانوں میں اس طرح کے کثیراللسانی سکول چل رہے ہیں۔
اب تک کیے گئے مختلف سروے نے ثابت کر دیا ہے کہ ان سکولوں سے فارغ ہونے والے طلبہ میں سیکھنے کی مہارت سرکاری سکولوں کی بہ نسبت بہت زیادہ ہے۔
پچھلے دنوں مادری زبان کے عالمی دن کے موقعہ پر مختلف زبانوں کے نمائندوں نے لوک ورثہ اسلام آباد میں نمائندگی کی، مختلف علاقوں کے ثقافتی گیت اور موسیقی بھی پیش کی۔
جب ہم نے مختلف زبانوں کے نمائندوں سے جاننے کی کوشش کی، تو ملتا جلتا رد عمل یہ تھا کہ سرکاری سطح پر چھوٹی زبانوں کی حق تلفی کی جاتی ہے اور ان کے مسائل کو سنجیدہ نہیں لیا جارہا۔
اس سے قبل بھی مردم شماری کے دوران میں یہ شکایات سامنے آرہی تھیں کہ چھوٹی زبانوں کو ’’دیگر‘‘ کے خانے میں ڈال دیا گیا ہے۔ اس کے خلاف مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے تھے۔
اب اگر ہم نے یونیسکو کی قرارداد کو تسلیم کرلیا ہے، تو ہمیں ملکی سپریم ادارے پارلیمنٹ میں اس پر بات کرنی چاہیے اور چھوٹی زبانوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ان پر کام کرنے والوں کی فریاد بھی سن لینی چاہیے اور نظامِ تعلیم پر بھی ایسا فیصلہ کرنا چاہیے جس سے معیاری تعلیم کا حصول ممکن ہو۔

اشتہار / Advertisement
اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

★ ★ ★ ★ ★
اوسط ریٹنگ: ⭐ 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔