(باخبر سوات ڈاٹ کام) سوات میں گذشتہ دو ہفتوں سے سیکورٹی چیک پوسٹوں پر سختی اور مظاہرین پر دہشت گردی کے دفعات کے تحت ایف آئی آر درج ہونے کے بعد کشیدہ صورتحال کے بعد سوات قومی جرگہ ، سیکورٹی فورسز اور سول انتظامیہ کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے۔ دو روزہ مذاکرات کے اختتام پر سوات قومی جرگہ کے ترجمان احمد شاہ نے میڈیا کو بتایا کہ مذاکرات میں پاک فوج کے اعلیٰ حکام، کمشنر ملاکنڈ ڈویژن، ریجنل پولیس آفیسر اور انتظامیہ کے دیگر افسران اور سوات قومی جرگہ کے 15 رکنی وفد نے شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فریقین نے انتہائی سنجیدگی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سوات کے عوام کے لئے مؤثر اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا اور طے پایا کہ سڑکوں پر قائم چیک پوسٹوں پر عوام کی آمد ورفت کو انتہائی آسان اور پختون روایات و اقدار کے مطابق رکھا جائے گا۔ سرچ آپریشن کے موقع پر بھی ملکی قانون اور علاقہ کے سماجی قدروں کا خیال رکھا جائے گا۔ سوات میں انتظامی اختیارات بتدریج سول انتظامیہ کو منتقل کئے جائیں گے۔ سوات کی تعلیمی اداروں میں سیکورٹی فورسز کی بیجا مداخلت نہیں ہوگی۔ کمشنر ملاکنڈ ڈویژن نے ذمہ داری لی کہ پُرامن احتجاج کرنے والے افراد کے خلاف درج ایف آئی آر کو واپس لیا جائے گا۔ سوات قومی جرگہ نے کامیاب مذاکرات کے بعد اتوار 25فروری کو نشاط چوک میں ہونے والا پُرامن احتجاجی مظاہرہ منسوخ کردیا
Swat
