(باخبر سوات ڈاٹ کام) صوبہ بھر میں پٹواریوں کی جاری ہڑتال کی وجہ سے محکمہ مال میں کام ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔ ہڑتال کی وجہ سے صوبائی حکومت کو اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ 26 فروری کو انجمن پٹواریان و قانون گویان نے اَپ گریڈیشن اور دیگر مطالبات کے حق میں صوبے بھر میں قلم چھوڑ اور کام چھوڑ ہڑتال شروع کی ہے، جو غیر معینہ مدت تک کے لئے جاری ہے۔ ہڑتال کی وجہ سے صوبے بھر میں زمینوں کی خرید و فروخت کا کام مکمل طور پر ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔ پٹوار خانوں میں ’’فرد‘‘ نہ ملنے کی وجہ سے عدالتوں کی جانب سے فرد کے بغیر ضمانتیں نہیں ہو رہی ہیں۔ فرد کے ذریعے حاصل ہونے والے قرضے بھی ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں۔انجمن پٹورایان کے صوبائی صدر محمد خان نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو رابطے پر بتایا کہ ضلع پشاور ہر ماہ نوے کروڑ روپے سے زائد کی رقم صوبائی حکومت کے خزانہ میں جمع کرتی ہے اور اس طرح پورا صوبہ ایک اندازے کے مطابق ماہانہ پانچ ارب روپے سے زائد رقم ٹیکس کی صورت میں پٹوار خانوں سے خزانے میں جمع کرتی ہے۔ ہڑتال کی وجہ سے صوبائی حکومت کے خزانے میں اس ماہ پانچ ارب سے زائد رقم نہیں جائے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان کے مطالبات حل کئے جائیں، تاکہ وہ ہڑتال ختم کردیں۔ اس طرح حکومت اور عوام دونوں کو فائدہ ہوں
Swat
