Swat

سی پیک میں حصہ نہیں ملا، تو کسی کو گزرنے نہیں دیں گے

(باخبر سوات ڈاٹ کام) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سربراہ اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ ملک کی خارجہ اور داخلہ پالیسیاں دونوں غلط ہیں۔ ان کو ٹھیک کرنے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھنا چاہیے۔ اس وقت ملک کو نئی خارجہ پالیسی کی ضرورت ہے، تاکہ ملک درست سمت میں چل سکے۔ سوات کرکٹ سٹیڈیم مینگورہ میں بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2013ء کے انتخابات کے بعد جب مولانا فضل الرحمان وفا قی حکومت کے ساتھ ملا اور سراج الحق، عمران خان کی صوبائی حکومت میں شامل ہوگیا، تو اس وقت سے دونوں اسلام اور اسلامی نظام بھول گئے تھے۔ اب جب 2018ء کے انتخابات قریب آرہے ہیں، تو دونوں کو عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے اسلامی نظام یاد آگیا۔ اب وہ عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے ایم ایم اے بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر اور صوبے میں سیکڑوں اور ہزاروں مدارس ہیں، لیکن عمران نیازی اور پرویز خٹک نے اکوڑہ خٹک کے ایک مدرسہ کو 58 کروڑ روپے دیے۔ یہ وہ مدرسہ ہے جس نے ایسے لوگوں کو پیدا کیا جنہوں نے ان سڑکوں، حجروں اور مساجد میں لوگوں کا خون بہا یا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی جب حکومت میں آئی، تو انہوں نے کہا کہ اے این پی کی حکومت کرپٹ تھی اور ہم کرپشن کو ختم کریں گے۔ انہوں نے خود اتنی کرپشن کی کہ اپنی کرپشن کو چھپانے کے لئے اپنے ہی احتساب کمیشن کو تالے لگا دیے۔ جتنی کرپشن تحریک انصاف کی حکومت نے کی ہے، اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی اور تحریک انصاف کے اپنے ممبرانِ اسمبلی اس کی گواہی دے رہے ہیں۔ حالیہ سینٹ کے انتخابات میں تحریک انصاف کے ممبران جس طرح بھیڑ بکریوں کی طرح بِکے وہ کرپشن کی بڑی مثال ہے۔ عمران نیازی نے پہلے کہا کہ ہم بِکنے والے ممبرا ن کے نام عوام کے سامنے لائیں گے اور اب کہتا ہے کہ ہمارے پاس ثبوت نہیں ہیں۔ آفتاب احمد خان شیرپاو کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شیرپاو خان پہلی بار صوبائی حکومت کا حصہ بنا اور عمران نیازی نے کچھ عرصہ بعد اس کوچور کہہ کر نکال دیا۔ اس کے بعد نہ شیرپاو کے حوالہ سے کوئی جرگہ ہوا نہ کوئی منت سماجت اور وہ پھر صوبائی حکومت کا حصہ بنا۔ اس کے کچھ عرصہ بعد نیازی نے اس کو پھر چور کہہ کر نکال دیا اور اب تیسری بار بھی شیرپاو خان نیازی کی گود میں بیٹھ کر سینٹ کا الیکشن لڑا۔ نیازی نے اب کی بار شیرپاو خان کو سینٹ کے انتخابات میں بھی دھکے دے کر نکال دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس صوبائی حکومت نے صوبے میں صرف ایک حیات آباد کا پل تعمیر کیا اور پل میں شدید کرپشن کی وجہ سے نو ماہ بعد اس پل پر بورڈ لگا دیا گیا کہ ’’بھاری گاڑیوں کا گزرنا منع ہے۔ ‘‘ فاٹا کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم فاٹا اور فرنگی کی کھنچی لکیر کو نہیں مانتے۔ ہم فاٹا اور خیبر پختون خواہ کے درمیان کھینچی لکیر کو مٹا دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سی پیک میں پختونوں کو ان کا حصہ نہیں دیا گیا، تو اپنے صوبے سے سی پیک میں کسی کو گزرنے کی اجازت نہیں دیں گے

اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔