سوات (باخبر سوات ڈاٹ کام) امن کانوبیل انعام حاصل کرنے والی دنیا کی کم عمر ترین شخصیت ملالہ یوسف زئی نے والدین، بھائیوں اور وفاقی وزیر مملکت مریم اورنگزیب کے ہمراہ سوات کا دورہ کیا۔ وزیر اعظم کے ہیلی کاپٹر میں مینگورہ پہنچنے کے بعد انہوں نے اپنے اس گھر جہاں پر انہوں نے 9اکتوبر2012ء تک قیام کیا تھا کا دورہ کیا۔ گھر کے ایک کمرہ جس میں اب بھی ان کا سامان پڑا ہے، کو دیکھا۔ بعد میں انہوں نے کیڈٹ کالج سوات گلی باغ کا بھی دورہ کیا اور وہاں پر کالج کے طلبہ اور اساتذہ سے بات چیت کی جس کے بعد وہ بذریعہ ہیلی کاپٹر اسلام آباد روانہ ہوگئی۔ ملالہ یوسف زئی پر 9اکتوبر2012ء کو اس وقت حملہ کیا گیا تھا جب وہ سکول سے چھٹی کے بعد ساتھیوں سمیت گھر جارہی تھی۔ اس حملہ میں وہ دو ساتھیوں سمیت زخمی ہوئی تھی جس کے اگلے دن ان کو طبی امداد کے لیے اہل خانہ سمیت برطانیہ منتقل کیا گیا تھا۔ ساڑھے پانچ سال بعد وہ چار روزہ دورۂ پاکستان کے دوران اپنا گھر دیکھنے آئی ۔ ملالہ یوسفزئی جب اپنے پرانے گھر میں داخل ہوئی تو آبدیدہ ہوگئی۔اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ ملالہ کے گھر میں اس وقت مقیم فرید الحق حقانی کے مطابق جب وہ گھر میں داخل ہوئی تو ضیاء الدین یوسف زئی نے سجدہ شکر ادا کیا اور صحن کی مٹی کو اپنے چہرے پر ملا۔ ملالہ کی والدہ تو ر پیکئی اپنے گھر کو دیکھ کر رو پڑی اور ملالہ کے بھائی خوشحال نے کہا کہ کتنی اچھی خوشبو آرہی ہے۔ ملالہ یوسفزئی کے سکول دور کے ایوارڈز اور کچھ سامان اب بھی گھر کے ایک کمرہ میں موجود ہے جہاں جا کر انہوں نے اپنا سامان دیکھا اور وزیر مملکت مریم اورنگزیب کو اپنے سکول دور کے ایوارڈز دکھائے۔ملالہ یوسف زئی اور ان کے خاندان کے چار روزہ دورۂ سوات میں ان کے سوات کے دورہ کو حکومت نے سیکورٹی وجوہات کی بنا پر منسوخ کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق ملالہ کی والدہ تور پیکئی کی شدید خواہش تھی کہ وہ اپنے گھر ضرور جانا چاہتی ہے جس کی وجہ سے جمعہ کی شام حکومت پاکستان نے ان کے سوات کے دورے کا ہنگامی پروگرام بنایا اور ہفتہ کو وہ سوات پہنچ گئی۔
Swat
