سوات (باخبر سوات ڈاٹ کام) سوات میں رہنے والی مسیحی برادری کے لئے نہ تو یہاں مسیحی قبرستان ہے اور نہ کوئی عبادت خانہ۔ پادری سمسیل گیل کے مطابق سوات کی مسیحی برادری سوات میں شدید مشکلات کی شکار ہے۔ سرکاری قبرستان نہ ہونے کی صورت میں جب کوئی مسیح انتقال کرتا ہے، تو اس کو دفنانے کے لئے پشاور یا دیگر شہروں میں لے جایا جاتا ہے۔ ایک سمینار سے اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ستر سے زائد مسیحی خاندان سوات میں کئی دہائیوں سے آباد ہیں، لیکن آج تک کسی حکومت نے ان کے مسائل پر توجہ نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی عبادت آزادانہ ماحول میں کرتے ہیں لیکن سرکار نے ان کے لئے کوئی چرچ نہیں بنایا اور وہ کرایہ کے مکان میں چرچ بنا کر وہاں عبادت کرتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ان کے مسائل کے حل کے لئے کوشش کرے۔
Swat
