سوات(باخبر سوات ڈاٹ کام) سوات کے تاجروں ، وکلا اور سول سو سائٹی نے ملاکنڈ ڈویژن کی ’’پاٹا‘‘ کی حیثیت کے خاتمے کا ذمہ دار قومی اور صوبائی اسمبلی میں سوات اور ملاکنڈ ڈویژن کے سابق اراکین اسمبلی کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کے ووٹوں سے منتخب اراکین اسمبلی نے’’پاٹا‘‘ کے خاتمے کے لئے ووٹ دیکر سوات اور ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کے ساتھ ظلم کی انتہا کی ہے۔ ’’پاٹا‘‘ کی حیثیت کی واپسی کے لئے سول نافرمانی تحریک شروع کرنے کا فیصلہ بھی ڈویژبل اجلاس میں کیا جائے گا ۔ سوات ٹریڈرز فیڈریشن کے صدر عبدالرحیم نے تاجروں، وکلا اور سول سوسائٹی کے افراد کے ساتھ پریس کانفرنس میں کہا کہ منتخب ممبران اسمبلی نے یہاں کے عوام کو قربانی کا بکرا بنادیا ۔یہاں کے عوام سابق اراکین اسمبلی کی اس سازش کو ہمیشہ یاد رکھیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن کے لوگوں کی معیشت اور کاروبار دہشت گردی اور سیلاب کی وجہ پہلے سے تباہ حال ہے۔ اب پاٹا کے خاتمہ کے بعد یہاں پر ٹیکسوں کی بھر مار ہوگی جس سے یہاں کے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ انہوں نے تاجروں سمیت تمام طبقہ فکر سے کہا کہ وہ متحد رہیں اور اس ظلم کے خلاف عنقریب احتجاجی تحریک شروع کی جائیگی جو ملاکنڈ ڈویژن کی ’’پاٹا‘‘ کی حیثیت کی بحالی تک جاری رہے گی ۔
Swat
