
جس قوم کے بچے نہ ہوں خود دار و ہنرمند
اس قوم سے مستقبل کا معمار نہ مانگو
کسی بھی معاشرہ کی تعمیر و ترقی اور فلاح و بہبود میں طلبہ کے کردار سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ کسی ملک کی ترقی اور بہتری میں طلبہ کا جتنا اہم کردار ہے ،میرا نہیں خیال کہ اتنا کسی اور کا ہوگا۔ کیونکہ انہی طلبہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آج کے بچے ، کل کے باپ اور انگریزی میں کہتے ہیں کہ Today’s readers, tomorrow ‘s leaders ۔لیکن اگر ہم معاشرے میں طلبہ کے کردار ، ان کی مثبت سوچ اور وسیع النظری سے معاشرے کی اچھائی جبکہ انہی کی منفی سوچ اور محدود نظریے کی وجہ سے معاشرے کی برائی کو مد نظر رکھیں۔ اور دوسری طرف والدین کی اس منفی ذہنیت کو دیکھیں جو وہ اپنے بچوں کی مستقبل کے بارے میں بناتے ہیں تو ہمیں بخوبی اندازہ ہوگا کہ ہمارے طلبہ معاشرے کو بنانے اور ترقی یافتہ اور خوشحال بنانے پر نہیں بلکہ بگاڑنے پر تلے ہوئے ہیں۔
اگر ہم صرف دو منٹ تک درجہ بالا شعر کو غور سے دیکھیں اور اس پر سوچیں اور فکر کریں تو یہ چھوٹا سا شعر ہمیں ایک بہت بڑا اور ایک نہایت اہم پیغام دیتا ہے ۔ پاکستان میں عمومًا اور خیبر پختونخواہ میں خصوصًا آج کل کے طلبہ میں یہ ایک ٹرینڈ بنا ہوا ہے کہ’’ اگر میں کچھ کرونگا تو وہ صرف میڈیکل یا انجینئر نگ ہوگی اور اگر مجھے کچھ بننا ہے تو وہ صرف ڈاکٹر یا انجینئر ہی ہے۔‘‘
اب یہاں میرا مقصد یہ بالکل نہیں کہ میڈیکل اور انجینئرنگ برے شعبے ہیں اور طلبہ کو دونوں سے کوسوں دور رہنا چاہئے۔ بلکہ میرا مقصد صرف اور صرف والدین کے ذہن میں یہ بات بٹھانی ہے کہ دنیا میں صرف میڈیکل اور انجینئرنگ نہیں ہے، اور بھی بہت سارے شعبہ جات موجود ہیں۔ میڈیکل اورا نجینئر نگ بہت اچھی فیلڈز ہیں لیکن لوگ اس کے بارے میں جو کچھ سوچتے ہیں، وہ غلط ہے ۔
یہ بات مشہور ہے کہ دنیا میں صرف پیسہ ہی ایسی چیز ہے ، جو سب کچھ کرواسکتا ہے ۔ اس بات کو اگر میں اپنے موضوع کے تناظر میں دیکھوں تو بات کچھ ایسی ہے کہ اگر لوگ میڈیکل اورا نجینئر نگ پر اتنا زور دے رہے ہیں، تو وہ اس لئے کہ وہ سوچتے ہیں کہ میڈیکل اورانجینئرنگ میں پیسہ زیادہ ہے۔
وہ سوچتے ہیں کہ جب میرا بچہ انجینئر نگ یا میڈیکل کرے گا تو وہ پیسے کی فراوانی سے بہت خوش رہے گا اور اسکی زندگی بہتر رہے گی۔
بہت کم لوگ ایسے ہیں جو اپنے بچوں کو میڈیکل یاا نجینئر نگ میں اس لئے بھیجتے ہیں کہ وہ معاشرے میں ایک مثبت تبدیلی لا سکے۔ لیکن ایسے لوگ آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔
علاوہ ازیں، اپنے والدین کے اس خیال اور نظریے سے اتفاق کرکے بچے بھی اپنے مستقبل کو خراب کرنے پر تل جاتے ہیں۔ یہاں خراب کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ پھر صرف اسی ایک یا دو فیلڈز کے بارے میں سوچتے ہیں اور باقی مضامین اور شعبہ جات ان کو برے لگتے ہیں۔
حال ہی میں میٹرک کے نتائج کا اعلان ہوا ہے ۔ جن بچوں نے بورڈ میں فرسٹ، سیکنڈ یا ٹاپ ٹوینٹی میں پوزیشن لی ، ان سے میڈیا والوں نے انٹرویو کے دوران جب یہ سوال پوچھا کہ آپ مستقبل میں کیا بننا چاہیں گے؟ تو ان میں سے اکثر کا جواب ڈاکٹر تھا۔
یہی وہ بچے ہیں جن کو ابتدائی سٹیج سے ہی صرف ڈاکٹر بننے کے لئے تیار کیا جاتا ہے۔ اور اس وجہ سے ان کے ذہن پر ایک منفی تاثر پڑ جاتا ہے ۔
لوگوں رجحان صرف ایک طرف ہونا کوئی اچھا شگون نہیں ہے۔ اس سے نہ صرف بچوں اور ان کے والدین کا مستقبل داؤ پر لگ جاتا ہے ، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ملک کی ترقی اور فلاح و بہبود بھی بہت زیادہ متاثر ہوتی ہے ۔
اسی لئے تمام والدین سے گزارش ہے کہ خدارا اپنے بچوں کے مستقبل پر تھوڑا سا رحم کریں اور انکو وہ کچھ کرنے دیں، جو ان کی مرضی ہے ۔ جس میں وہ دلچسپی لیتے ہیں اور جو ان کی خواہش ہے۔