Swat

بجلی، گیس و ٹیلی فون بل میں ہیڈن ٹیکس کا نوٹس لیا جائے، فضل خالق ماڈرن

سوات  (باخبرسوات ڈاٹ کام) جب ریاستِ سوات 1969ء میں پاکستان میں ایک ضلع کی حیثیت سے مدغم ہو رہی تھی، تو والئی سوات نے حکومت پاکستان سے ایک معاہدہ کیا تھا جس کے تحت سوات کو سو سال تک ٹیکس فری زون قرار دیا گیا تھا، لیکن اس وقت سوات میں غیر علانیہ طور پر ٹیکس نافذ کردیا گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار بلدیہ مینگورہ کے سابق ایڈمنسٹریٹر اور سرحد ٹورر ازم پاکستان کے سابق ایڈوائزر فضل خالق ماڈرن نے کیا۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت بجلی، گیس اور ٹیلی فون بلوں میں ہیڈن ٹیکس نافذ کیا گیا ہے، جو سوات کے عوام کے ساتھ زیادتی ہے۔ انھوں نے سوات سے تعلق رکھنے والے خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ محمود خان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس ناجائز ٹیکس کا نوٹس لیں، کیوں کہ سوات کے عوام پہلے سے ہی طالبانائزیشن اور سیلاب کی تباہ کاریوں کا شکار ہیں۔

اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔