
تو مجھے اپنا بنالے یا مجھے چھوڑ دے
جو بھی تیرا فیصلہ ہوگا مجھے منظور ہے
نہ دوا کام آئی نہ دعا تجھ کو لگی
دل پے میرے زخم کب ہے یہ تو اک ناسور ہے
(ارقم چھوٹا بچہ شاعر انڈیا)
میرے اکثر رشتہ دار اور جاننے والے مسلم لیگ میں ہیں لیکن میں نے پوری زندگی مسلم لیگ کو ووٹ نہیں دیا اور اس کی بڑی وجہ جماعت اسلامی سے دیرینہ تعلق ہے۔ میرے ایک رشتہ دار نے حالیہ انتخابات سے پہلے مجھ سے درخواست کی تھی کہ خان دادا ،امیر مقام کی حمایت میں ایک کالم لکھو، میں نے انکار کیا کہ پیر خیل صاحب، میں نے ہمیشہ مسلم لیگ کی مخالفت کی ہے اور اب آپ مجھ سے کالم لکھوانے کا کہہ رہے ہیں۔
میں آپ پر لکھ سکتا ہوں لیکن امیر مقام صاحب پر کسی صورت نہیں لکھ سکتا اور وہ مجھ سے ناراض ہوکر میرے کلینک سے اٹھ کر چلا گیا اور ابھی تک پھر اس سے ملاقات ممکن نہ ہوسکی۔
وضاحت کرنے کے بعد اب اصل مسئلے کی طرف سواتی عوام کی توجہ مبذول کرواتا ہوں کہ انتخابات میں امیر مقام اور مسلم لیگ ن کو شکست ہوئی۔ مجھے مسلم لیگ کی شکست پر کوئی پریشانی نہیں لیکن اللہ پاک کو حاضر جان کر قسماً کہتا ہوں کہ امیر مقام کی شکست پر دل انتہائی پریشان ہوا اور اللہ کی ذات کی قسم کہ میں نے اپنا صوبائی ووٹ امیر مقام صاحب کو دیا تھا۔
اور یہ میں نے کسی پر کوئی احسان نہیں کیا بلکہ سواتیوں کے محسن کا حق ادا کرنا چاہا جو صحیح معنوں میں ادا نہ ہوسکا۔ امیر مقام صاحب بغیر ممبر بنے سوات کے لوگوں کے ہیرو تھے۔ انہوں نے جہاں بجلی کے تار دیکھے، سوات لے آئیں۔ ٹرانسفرمر اور بجلی کے بحران کو حل کرنے کے لیے مردان سے علیحدہ گریڈ سٹیشن بنانے کے لیے سرگرم امیر مقام دن رات مصروف رہے۔
اب اس حوالہ سے گیس کے بارے میں نہ بتا کر احسان فراموشی ہوگی جو ہم پہلے بھی کرچکے ہیں۔انہوں نے مٹہ، خوازہ خیلہ تک گیس کے پائپ بچھادیئے اور اب بھی سڑک کے دونوں کنارے اس سے بھرے پڑے ہیں۔ وہ اتنا کام اور احسان کرچکے ہیں کہ اگر ان کے بقایا کام موجودہ وزیراعلیٰ نے انجام دیئے، تو ہم مان جائیں گے۔
شانگلہ کے عوام امیر مقام صاحب کو طعنے دیتے ہیں کہ آپ نے اپنا گھر بار چھوڑ دیا اور سوات کے لوگوں نے آپ کی خدمات کے صلہ میں آپ کو شکست سے دوچار کیا۔
میں مسلم لیگ کی شکست پر خوش ہوں کیوں کہ اس کے لیڈر پختون دشمن پالیسیوں پر چلتے تھے لیکن امیر مقام کو ووٹ دینا سواتیوں پر قرض تھا۔ وہ ہم لوگوں پر بہت بڑے احسانات کرچکے ہیں اور اس کے بدلے میں مسلم لیگ نہیں،کم از کم امیر مقام کو تو کامیاب کرو ہی سکتے تھے۔
حقیقی معنوں میں امیر مقام نے سواتیوں کی خدمت کی ہے لیکن سوات کے لوگوں نے انصار مدینہ کا کردار ادا کرنے سے انکار کیا اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے میں نے امیر مقام صاحب کو شکست سے دوچار کیا ہو۔ موجودہ حکمرانوں کا کڑا امتحان شروع ہونے والا ہے اور وزیراعلیٰ صاحب بھی سوات سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگر وہ امیر مقام صاحب کا بقایا کام انجام دیں تو ہم مان جائیں گے کیوں کہ یہ لوگ اکثر بجٹ خرچ نہ کرکے واپس کردیتے ہیں۔
امیر مقام صاحب کا پورا یقین تھا کہ میں نے دن رات سواتیوں کی خدمت کی ہے وہ بھی بغیر ممبر بنے، تو میں اُن سے صرف تمام چیزوں کے بدلے ووٹ مانگتا ہوں۔
’’دھوبی کا کتا نہ گھر کا نہ گھاٹ کا ‘‘کھلے میدان میں امیر مقام کو اکیلا چھوڑ کر سواتیوں نے کوئی اچھی مثال نہیں چھوڑی۔ پوری زندگی میں کبھی امیر مقام صاحب سے ملاقات کی ہے اور نہ آئندہ ملاقات کرنے کی ضرورت محسوس کرتا ہوں۔ شانگلہ والوں نے بار بار کہا کہ امیر مقام اگر اپنے علاقے سے لڑتے تو کامیاب ہوجاتے لیکن اُن کا خیال تھا کہ شانگلہ اور سوا ت، ایک ضلع کے دو ٹکڑے بن چکے ہیں۔ ہم سب رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔
میں ایک وضاحت بار بار کرتا ہوں کہ مسلم لیگ کی شکست کوئی خاص بات نہیں لیکن امیر مقام صاحب کو شکست ملنا دراصل سواتیوں کے منھ پر تمانچہ ہے۔
انہوں نے شہباز شریف کو سوات اس لیے بلایا کہ سواتی عوام میری عزت کرکے شہباز صاحب کو ووٹ دیں گے اور اس کے بدلے میں سواتیوں کو نہ ختم ہونے والے مراعات دلوائیں گے۔ یہ باتیں میں نے اپنے دوستوں سے بار بار کہہ چکا ہوں لیکن جو بھی ہوا، اچھا نہ ہوا ۔حالاں کہ میں نے زندگی بھر مسلم لیگ کو ووٹ نہیں دیا اور نہ آئندہ دینے کا کوئی پروگرام ہے لیکن پشتو کا مقولہ ہے ’’ہندو د یار د پارہ غٹہ غوخہ خوڑلے دہ۔‘‘
کبھی کبھی ایسا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ آج اسلام کی باتیں صرف اسلام آباد تک پہنچنے کے لیے ہر پارٹی کرتی ہیں اور پھر انہیں کچھ یاد نہیں ہوتا۔ ویسے بھی سیاسی لوگوں کے بارے میں ایک مشہور شاعر منظر بھوپالی صاحب فرماتے ہیں۔
سب آسمان سے اُترے ہوئے فرشتے ہیں
سیاسی لوگوں میں کوئی بُرا نہیں ہوتا
امیر مقام صاحب! ہم آپ کے قرض دار ہیں۔ آپ نے ہمیں ہر طرح سپورٹ کیا لیکن ہم آپ کی کوئی قدر نہ کرسکے اور مجھے اتنا دکھ اور درد محسوس ہورہاہے ۔آپ تو پھر بھی کام کرنے والے آدمی تھے۔ آپ کو بہت بڑا صدمہ ہوگا۔ میں تمام سواتیوں کی طرف سے آپ سے معافی چاہتا ہوں اور آپ کی کاوشوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔
اتنا مصروف نہ کر تو کہ مجھے
تجھ سے ملنے کو بھی فرست نہ ملے
اپنا دامن بھی نہ چھونے دے مجھے
اُٹھنا چاہوں تو اجازت نہ ملے