سوات (باخبرسوات ڈاٹ کام) سابق ضلع ناظم سوات ملک سردار علی خان مقدمۂ قتل میں بری ہوگئے۔ مستغیث مقدمہ نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے ملزم کے خلاف الزام واپس لے لیا۔ 2015ء میں سیدو شریف میں عماد حسین کے قتل کے سلسلے میں ایک ایف آئی آر رجسٹر ہوئی تھی، جس میں مستغیث نے وقوعہ کا چشم دید گواہ نہ ہونے کی وجہ سے ایف آئی آر میں کسی کے خلاف دعویداری نہیں کی تھی، تاہم وقوعہ کے 9 ماہ بعد دعویداری کی گئی اور ملک سردار علی خان کو قتل کے مقدمہ میں ملزم نامزد کردیاگیا تھا،جس پر ملک سردارعلی نے سیشن جج سوات کی عدالت میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دائر کی، جو کہ منظورہوگئی۔ بعد ازاں مقدمہ میں ہر دوفریقین عدالت میں حاضر ہوئے اور مقدمہ کو مشران کی مداخلت اور کوششوں سے مستغیث ملک سردار علی کے خلاف اپنی دعویداری واپس لے لی۔ اس طرح مقتول کے والدین کا مشترکہ بیان عدالت میں قلمبند ہونے کے بعد ملک سردارعلی خان کوبری کردیاگیا۔
Swat
