سوات (باخبرسوات ڈاٹ کام) ’’ہم تو ڈوبے ہم صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے‘‘ سوات کے دونوں صوبائی حلقوں میں تحریک انصاف کی ناکامی ان کے اپنوں کی وجہ سے ہوئی۔ پچھلے عام انتخابات میں ڈاکٹر حیدر علی دو حلقوں سے انتخابات میں حصہ لے رہے تھے۔ ایک نشست خالی کرنے کی صورت میں تحریک انصاف کے بانی کارکن، سابق صوبائی امیدوار و ممبر ضلع کونسل محمد زیب خان سے وعدہ کیا گیا تھا کہ ان کو ضمنی انتخابات میں ٹکٹ دیا جائے گا لیکن جب ان کو ضمنی انتخابات میں پارٹی کا ٹکٹ نہیں دیا گیا، تو انہوں نے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑا۔ اس حلقہ پر تحریک انصاف کے امیدوار ساجد علی کو 334 ووٹوں سے شکست ہوئی۔ محمد زیب خان نے 2462ووٹ حاصل کئے۔ اس طرح پی کے7میں تحریک انصاف کے سرگرم رہنما سعید خان کو ٹکٹ دینے کے بجائے مراد سعید کی سفارش پر حاجی فضل مولا کو ٹکٹ دیا گیا، جس پر سعید خان نے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا اور تحریک انصاف کے کارکنوں کا ووٹ حاصل کیا۔ اس حلقہ پر تحریک انصاف کے امیدوار کو 334 ووٹوں سے شکست ہوئی۔ تحریک انصاف کے آزاد امیدوار سعید خان نے1964ووٹ حاصل کئے۔ اس طرح سوات کے دونوں صوبائی حلقوں میں تحریک انصاف کے امیدواروں کو اپنے ہی کارکنوں کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔سوات میں متحدہ اپوزیشن بھی تحریک انصاف کی شکست کا سبب بنی۔ ضمنی انتخابات میں متحدہ اپوزیشن میں شامل جماعتوں اے این پی، ن لیگ، پیپلز پارٹی، قومی وطن پارٹی، ایم ایم اے اور پختون خواہ میپ نے فیصلہ کیا تھا کہ دونوں حلقوں پر رنر اپ امیدوار کی حمایت کی جائے گی اور ان کے مقابلے میں امیدوار کھڑا نہیں کیا جائیگا، جس پر عمل در آمد کیا گیا اور رنر اپ امیدواروں کے مقابلے میں باقی پارٹیوں نے امیدوار کھڑے نہیں کئے۔ تاہم متحدہ اپوزیشن میں شامل جماعتیں دونوں حلقوں پر حمایتی امیدواروں کواپنی پارٹی کا زیادہ ووٹ دلانے میں کامیاب نہ ہوسکیں اور ٹرن آوٹ انتہائی کم رہا۔
Swat
