
ایک زمانہ تھا جب ہم اپنے بچپن میں سنتے تھے کہ فُلاں ٹھیک نہیں ہو رہا، آوارہ ہے، یا نافرمان ہے۔ اس کو عمرے پر بھیج دیتے ہیں۔ پھر جب وہ پلٹتا،تو اس کی آنکھوں پر حیا کے پردے ہوتے تھے۔ آج کتنے کتنے حج اور عمرے ہم نے کیے ہوتے ہیں لیکن حیا کے پردے دکھائی نہیں دیتے۔ اخلاق اچھے نہیں ہوتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اللہ کے گھر گئے۔ ہم حرم میں داخل ہوئے۔ موبائل نکالا اور سیلفی بنائی۔ ایک ہاتھ دیوارِ کعبہ پر اور دوسرے ہاتھ سے تصویر بنا رہے ہوتے ہیں۔ لوگ طوافِ کعبہ کر رہے ہوتے ہیں اور گزرتے لوگوں سے کہتے ہیں کہ ہماری تصویر بنائیں۔ تصویر بنائی، سیلفی لی اور جھٹ سے فیس بک پہ پوسٹ کردی۔ وہ کسی نے کیا خوب کہا ہے: ’’نیکی کر فیس بک میں ڈال۔‘‘
افسوس! یہ کیسی زیارت ہے حج کی؟ ہم ایک ایسی جگہ تصویر بنا رہے ہوتے ہیں، جہاں سے دینِ اسلام پھیلا۔ جہاں دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ جہاں سے انسان گناہ سے پاک ہوکر لوٹتا ہے۔ ہمیں تو زیادہ ڈر نا چاہیے۔ اس لیے کہ ہمیں تو اپنے کرتوتوں کا پتا ہے۔ ہمارے اخلاق بھی کھوکھلے ہیں۔ ہمارے اعمال بھی کھوکھلے ہیں۔ ہم اپنے کندھوں پہ باقی گناہ لے کر جاتے ہیں۔ چغلی، حسد، غیبت، کینہ، کیا کیا گناہ نہیں ہے جو ہم نہیں لے جاتے۔ پرائے گھر ہم توڑتے ہیں۔ دل ہم توڑتے ہیں۔
میرا اک سادہ سا سوال ہے کہ کیا حج کی زیارت موبائل کے بغیر نہیں ہوسکتی؟ کیا یہ موبائل ہم اپنی رہائش گاہ پر چھوڑ کر نہیں آسکتے؟ ہم حج و عمرہ کے لیے گئے ہیں تو وہاں سے لائے کیا؟ کھجور، پانی، بچوں کے لیے کھلونے، بوڑھوں کے لیے تسبیح، ٹوپیاں، جائے نماز بس یہی لائے ہیں اور کیا؟ جتنا گناہ یہاں سے ہم لے کر جاتے ہیں، اُسی طرح واپس لے کر چلے آتے ہیں۔ ہاں، ہمارے ساتھ ’’حاجی‘‘ کے سابقے کا اضافہ ضرور ہوتا ہے، لیکن ہمارے اعمال و اخلاق اسی طرح رہتے ہیں۔ پیشانیوں پر سجدوں کا نور دکھائی نہیں دیتا۔آنکھوں پر حیا کے پردے نہیں بیٹھتے، اور بڑے فخر سے بتاتے ہیں کہ پانچ بار حج بیت اللہ کی زیارت کی۔دس عمرے ادا کیے، لیکن رویے ہیں کہ تبدیل ہی نہیں ہوتے۔
علامہ سعدیؒ لکھتے ہیں کہ ایک شخص اللہ کے گھرمیں رو رہا تھا، اور رو روکر کہہ رہا تھا، یااللہ! مجھے معاف فرما، یااللہ! مجھے قیامت کے دن اپنے بندوں کے سامنے شرمندہ نہ فرما۔ جب آگے پڑھ کر دیکھا، تو وہ وقت کے ولی شیخ عبدالقادر جیلانیؒ تھے۔ یہ وہ جوان تھے جس نے عشا کے وضو سے فجرکی نماز پڑھی ہے۔ یہ وہ جوان تھے جن کی راتیں کبھی سجدے میں اور کبھی قیام میں گزرتی تھیں۔ یہ وہ جوان تھے جس نے ہر شب میں ایک مرتبہ پورے قرآن کریم کی تلاوت کی ہے۔ ان کی یہ کیفیت تھی۔ کیا ہماری کیفیت اسی طرح ہوتی ہے جیسے کہ ہماری اسلاف کی تھی؟ وہ بڑے مقبول لوگ تھے، وہ تقویٰ اور عبادت والے تھے۔ ان کی صحبت میں بیٹھنے والے لوگ واصل بااللہ ہوتے تھے، لیکن اس کے باوجود وہ اللہ سے ڈرتے تھے کہ کہیں نکال نہ دیے جائیں۔ ہماری کیفیت اُن لوگوں کی طرح نہیں ہے، تو پھر ہم اپنا حج و عمرہ کیوں برباد کرتے ہیں۔
یہ بھی ہے کہ آج کل کے دور میں ہم نے حج اور عمرہ کو فیشن بنا رکھا ہے۔ صرف نام کمانے کے لیے ہر سال عمرہ کی ادائیگی کے لیے خانہ کعبہ کا رُخ کرتے ہیں۔ خواہ پڑوس میں ایک غریب فقر و فاقہ کی وجہ کیوں نہ مرے۔ ایک غریب بچہ تعلیم سے محروم کیوں نہ رہے۔ ہمارا کام صرف نمود و نمائش ہے۔ زیادہ سے زیادہ حج و عمرہ ادا کرکے معاشرے میں ہمیں شرافت اور نیک نامی کا ایک سرٹیفکیٹ مل جائے اور بس۔