سوات (باخبر سوات ڈاٹ کام) حجرہ پختونوں کی ثقافت میں پرانی تاریخ رکھتا ہے،لیکن اس مشینری اور کمپوٹرائزڈ دور میں حجرے کی روایت آہستہ آہستہ کم ہوتی جارہی ہے۔ اس کے باوجود پختونوں کے کئی علاقوں میں آج بھی حجرہ کی روایت کو قائم رکھا گیا ہے۔ سوات کی تحصیل بریکوٹ کے قدیم علاقہ شموزئی میں 150 سالہ پرانا حجرہ جو تین نسلوں کے زیر استعمال رہا، آج بھی قائم ہے۔ شموزئی کے اس حجرہ میں 17کمرے، بڑے برآمدے اور وسیع صحن ہیں۔ شموزئی کے رہنے والے سابق ڈپٹی کمشنر جمیل احمد نے باخبرسوات کو بتایا کہ یہ حجرہ ”پشتودور“ جب سوات پر یوسف زئی حکمران تھے،میں تعمیر کیا گیا تھا۔ اس کا شمار خیبرپختون خواہ کے قدیم ترین حجروں میں کیا جاتا ہے۔اس کو ”شموزئی حجرہ“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ حجرہ کے دروازے ہر وقت مہمانوں کے لئے کھلے ہوتے ہیں۔ کوئی بھی مہمان جب اس حجرے میں داخل ہو جاتا ہے، تو اس کی چائے روٹی اور رہائش تک کا انتظام کیا جاتا ہے۔ حجرہ میں بزرگوں اور نوجوانوں کے لئے الگ الگ کمرے مخصوص ہیں۔حجرہ میں صبح سے لے کر رات گئے تک علاقہ کے لوگ اکھٹے ہوتے ہیں۔ غم اور خوشی کے دوران بھی اس حجرہ کو استعمال کیا جاتا ہے۔کبھی کبھی مقامی موسیقی کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔حجرہ میں موجود 60 سالہ محمد رزاق نے باخبر سوات کو بتایا کہ حجرہ کی تعمیر کے بعد سے علاقہ کے لوگوں کے درمیان تنازعات کے حل کے فیصلے اس حجرہ میں ہوتے تھے۔ آج150 سال بعد بھی تنازعات کی صورت میں علاقہ کے لوگوں کے فیصلے اس حجرہ میں جرگہ کے ذریعے کئے جاتے ہیں۔ علاقہ کے ایک نوجوان جو یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں الیاس خان نے باخبر سوات کو بتایا کہ وہ اور ان کے باقی دوست جب بھی چھٹیوں پر گھر آتے ہیں، تو زیادہ تر وقت اس حجرہ میں گزارتے ہیں اور پڑھائی بھی یہاں کرتے ہیں۔
شموزئی حجرہ نے 150 سال میں تین ادوار اور ان کے لوگ دیکھے۔ 150 سال پہلے جب سوات میں پشتو دور تھا،”یوسفزئیوں کی حکمرانی“ تھی، تو اس وقت بھی یہ حجرہ جرگوں اور فیصلوں کے لئے استعمال میں آتا تھا۔ ریاستِ سوات دور کے آغاز کے بعد ریاست کے پہلے بادشاہ میاں گل عبدالودود المعروف بادشاہ صاحب نے بھی اس حجرہ میں جرگوں اور فیصلوں کا اختیار دیا تھا۔ پھر والئی سوات کے دور میں بھی اس حجرہ کی یہی اہمیت رہی۔ 1969ء کو جب ریاست سوات کا ادغام پاکستان کے ساتھ ہوا، تو اس کے بعد سے آج تک حجرہ کی وہی روایت قائم ہے اور مزید بھی قائم رہنے کا امکان ہے۔ شموزئی حجرہ گارے اور پتھروں سے تعمیر کیا گیا ہے۔ اس میں پتھروں کی چنائی کی گئی ہے اور باقی تمام آرائشی کام لکڑی کا کیا گیا ہے۔ حجرہ کے دروازوں، ستونوں اور برآمدوں پر لکڑی پر کندہ کاری کا ایسا کام اس وقت کیا گیا ہے کہ آج بھی اس کام کو دیکھنے والے حیران رہ جاتے ہیں۔ اس وقت کے ہنر مندوں نے اس حجرہ میں کندہ کاری کا مثالی کام کیا ہے، جس کو دیکھنے کے لئے آج بھی دور دراز سے لوگ آتے ہیں۔ شموزئی حجرہ میں ریاستِ سوات کے آخری بادشاہ میاں گل عبدالحق جہانزیب المعروف والی صاحب کے لئے ایک کمرہ مخصوص کیا گیا تھا۔ والئی سوات جب شموزئی جاتے تھے، تو اس کمرے میں قیام کرتے تھے اور جب دیر، پشاور یا دوسرے علاقوں کا سفر کرتے تو آتے جاتے وقت اس حجرہ کے اس مخصوص کمرہ میں کچھ دیر آرام کرتے او ر کھانا پینا بھی یہاں کرتے تھے۔ والئی سوات کے لئے مخصوص کمرہ میں کسی اور کو رہنے کی اجازت علاقہ کے لوگوں کی جانب سے نہیں تھی۔
Swat
