Swat

آر ٹی آئی کا قانون ملاکنڈ ڈویژن میں نافذ کردیا گیا

سوات (باخبر سوات ڈاٹ کام) صوبائی وزیر اطلاعات شوکت علی یوسفزئی نے کہاہے کہ2008ء سے2013ء تک پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے 24 ہزار ارب کا قرضہ لیا۔دونوں حکومتوں کی لوٹ مار کی وجہ سے پاکستان پر قرضہ 6ہزار ارب سے بڑھ کر 30ہزار ارب ہوگیا ہے۔احتساب نہیں کریں گے تو ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ماضی میں حکومتیں کرپشن کی وجہ سے دو ڈھائی سال بعد ختم ہوئیں۔ آج بھی جمہوریت کو کرپشن سے خطرہ ہے۔ گرفتاری کے خوف سے سارے چور مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں متحد ہورہے ہیں۔نواز،زرداری کے بعد مولانا فضل الرحمان، اسفندیار اورآفتاب شیرپاؤ کی باری ہے۔مریم اور بلاول کے باپ سے نہیں ڈریں تو ان سے کیا ڈرنا؟سندھ میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے خپل کور ہال مینگورہ میں معلومات تک رسائی کے قانون کے حوالے سے منعقدہ ایک روزہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر آرٹی آئی کے کمیشن کے چیف کمشنر عظمت حنیف اورکزئی نے بھی خطاب کیا۔شوکت علی یوسفزئی نے کہاکہ آرٹی آئی کا قانون دنیا کے 124ممالک میں رائج ہے۔ اسی طرز پر خیبر پختونخوا میں بھی آر ٹی آئی کا نظام نافذ کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج پہلی بار اس نظام کو فاٹا اور پاٹا تک بھی توسیع دی گئی ہے،جو اداروں کے احتساب کا بہترین ذریعہ ہے۔

اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔