سوات (باخبر سوات ڈاٹ کام) ایگلریکلچر ریسرچ انسٹیٹیوٹ سوات کے زیر اہتمام ”نیشنل پیچ فیسٹول“ کا اہتمام کیا گیا جس میں ملک کے مختلف صوبوں سے طلبہ و طالبات اور مقامی زمینداروں نے شرکت کی۔ اس موقع پر سمینار سے اپنے خطاب میں ڈائیریکٹر ڈاکٹر محمد ایاز خان، ڈاکٹر محمد عبدالرؤف، ڈاکٹر نادیہ بوستان نے کہا کہ ملک بھر کا اسی فیصد آڑو سوات میں پیدا ہوتا ہے اور اس کی 17اقسام اس وقت پیدوار کرکے مارکیٹ میں پہنچتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس انسٹیٹیوٹ کے سائنسدانوں نے چالیس سال کے ریسرچ کے بعد مزید دس اقسام دریافت کئے ہیں جن میں سے کچھ جلد زمینداروں کو دئے جائیں گے۔جس کے بعد آڑو کی پیداوار مارچ سے ستمبر تک ہوسکے گی۔ ایگری ٹورازم کے بارے میں طارق تنویر نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس وقت عام ٹور ازم کے علاوہ دنیا بھر میں ایگری ٹورازم کو لوگ پسند کرتے ہیں اور اس میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ سوات جس کو فصلوں اور پھلوں کا گھر کہا جاتا ہے، یہاں پر ایگری ٹور ازم کے بہت سارے مواقع ہیں اور ایگری ٹورازم شروع ہونے سے یہاں کے زمینداروں کو دگنا منافع ہوگا۔
Swat
