Swat

روپے کی قدر میں کمی، سوات میں خشک میوے کا کاروبار ٹھپ، خصوصی رپورٹ

(باخبرسوات ڈاٹ کام) پاکستان اور خاص کر خیبر پختون خواہ میں خشک میوہ جات کی قیمتوں میں انتہائی اضافہ کی وجہ سے خشک میوہ جات کی فروخت میں نمایاں کمی آئی ہے، جس کی وجہ سے خشک میوہ جات کا کاروبار کرنے والے دکان دار اور بیوپاری مشکلات کا شکار ہوگئے ہیں۔ ملک میں مہنگائی کی وجہ سے جہاں ہر کاروبار خراب ہے، اور کاروباری حضرات پریشان ہیں، ان میں خشک میوہ جات کا کاروبار کرنے والے بھی شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ ایک دکان دار امان اللہ نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ خشک میوہ جات کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے اب وہ صبح سے شام تک گاہکوں کی راہ تکتا ہے۔ اس سے پہلے وہ روزانہ 30 سے50 ہزار روپے کے خشک میوے فروخت کرتا تھا۔ موجودہ صورتحال میں بمشکل 5 سے10 ہزار روپے کا کام ہوتا ہے۔ خشک میوہ جات کے ایک بیوپاری امیر عالم خان نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ زیادہ تر خشک میوہ باہر ممالک سے آتا ہے، جس کی خریداری وہ ڈالرز میں کرتے ہیں۔ ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے خشک میوہ جات کی قیمتوں میں 70 سے90 فیصد اضافہ ہوا ہے، اور لوگوں میں قوتِ خرید نہ ہونے کی وجہ سے اب لوگوں نے خشک میوہ جات کی خریداری چھوڑ دی ہے۔ بہت کم ایسے لوگ ہیں جن کے پاس زیادہ پیسہ ہے، وہی لوگ خشک میوے خریدتے ہیں۔خیبر پختون خواہ کے مختلف علاقوں میں جب کسی کے گھر مہمان جاتے تھے، تو چائے، کھانے سے پہلے میزبان مہمانوں کے سامنے خشک میوؤں کا ٹرے رکھتے تھے۔ عام لوگوں کا کہنا ہے کہ اب ایک عرصہ سے جب کوئی کسی کے ہاں مہمان ہو، تو مہنگائی کی وجہ سے خشک میوے رکھنے کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے۔ ایک شہری غفار خان نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ کافی عرصہ ہوگیا کہ وہ کسی کے گھر گیا ہو اور اس کے سامنے خاطر تواضع کی غرض سے خشک میوے کا ٹرے کسی نے رکھا ہوں۔خشک میوہ جات میں اس وقت سب سے مہنگا میوہ چلغوزے ہے، جو 5ہزار روپے فی کلو اور سب سے سستا چوہارا ہے جو180روپے فی کلو فروخت ہوتا ہے۔ دکان دار امیر عالم خان کے مطابق اس وقت بادام 1000 روپے کلو، اخروٹ350، پستہ1800، کاجو1800، خوبانی500، چوہارا 140، چلغوزہ5000، کشمش600، کھوپرا500، انجیر1000اور مونگ پھلی کی قیمت220 روپے فی کلو ہے۔ خشک میوہ جات فروخت کرنے والے دکان داروں کا کہنا ہے کہ موسم سرما کو خشک میوہ جات کا سیزن کہا جاتا ہے۔ موسمِ سرما کے آغاز پر ان کی سیل میں سو فیصد اضافہ ہو جاتا تھا، لیکن مہنگائی اور قوت خرید کم ہونے کی وجہ سے اب موسمِ سرما میں بہت کم لوگ خشک میوہ جات خریدتے ہیں۔ دکان داروں کا کہنا ہے کہ افغانستان سے مختلف میوؤں کی آمد بند ہوگئی ہے۔ کاجو بھارت سے آتا تھا، اس کی آمد بھی بند ہوچکی ہے۔ پاکستان میں فروخت ہونے والا بادام امریکہ اور اسٹریلیا، اخروٹ چائینہ، کجھور عراق اور ایران سے درآمد ہوتا ہے۔ پاکستان میں چوہارا سکھر اور مونگ پھلی تلہ گنگ سے آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اخروٹ کی پیدوار پاکستان میں بھی ہوتی ہے، لیکن پاکستانی اخروٹ کے مقابلے میں لوگ چین کے اخروٹ کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔ ایک دکان دار شیر عالم نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتا یا کہ خشک میوہ جات کا کاربار کرنے والے تھوک اور پرچون تمام دکان دار مالی مشکلات کا شکار ہوگئے ہیں۔ کچھ دکان داروں نے اپنا کاروبار ختم کردیا ہے۔ بیشتر یہ کاروبار ختم کرنا چاہتے ہیں، لیکن پرچون کے دکان داروں کے ساتھ لاکھوں اور تھوک کا کام کرنے والے دکان داروں کے پاس کروڑوں روپے کے میوہ جات پڑے ہیں جس کی وجہ سے وہ ابھی کاروبار ختم نہیں کرسکتے۔ خشک میوؤں کی ایک دکان میں آنے والے گاہگ جس نے بعد میں اپنا نام گل محمد بتایا نے دکان دار سے مختلف میوؤں کی قیمتیں معلوم کیں۔ قیمتیں سن کر دکان سے جب وہ جانے لگا، اس وقت باخبر سوات ڈاٹ کام نے اس سے پوچھا کہ آپ نے کوئی خریداری نہیں کی اس کی وجہ، تو انہوں نے کہا کہ ٹماٹر سو روپے کلو ہوگیا ہے۔ وہ گھر کے لئے ٹماٹر نہیں خرید سکتا، تو ڈرائی فروٹ کیسے خرید سکتا ہے؟

اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔