کالم نگاری

نیکی وہ ہے جس سے اللہ راضی ہو

مولانا ہارون رشید

✍️ کالم نگار: مولانا ہارون رشید

اشتہار / Advertisement

نیکی وہ ہے جس سے اللہ راضی ہو
مولانا ہارون رشید
قارئین، مَیں جب بھی میں وہاں سے گزرتا ہوں، تو اس کو اُداس پاتا ہوں۔ ایسے لگتا ہے کہ وہ اپنی کم عمری میں اس معاشرہ سے شکوہ کرتی ہے۔ اس کے ہاتھوں میں ایک ٹوکری ہوتی ہے۔ اس میں خوراک کی کچھ چیزیں ہوتی ہیں، جسے وہ فروخت کرتی ہے۔ ایک دن موسلا دھار بارش میں جب مَیں وہاں سے گزررہا تھا، تو میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ شاید وہ آج نہ ہوگی۔ جب میں نے اس جگہ کا جائزہ لیا جہاں وہ بیٹھتی تھی، تو دیکھا کہ ایک پلاسٹک کے ذریعے بارش سے اپنے آپ کو بچاتے ہوئے ہاتھوں میں وہی ٹوکری اور اس میں کچھ چیزیں پڑی ہیں، جنہیں وہ بیچ رہی ہے۔
قارئین، یہ کتھا ہے ایک چھوٹی بچی کا جو رحیم آباد پولیس سٹیشن کے سامنے فٹ پاتھ پر بیٹھی ہے اور کچھ چیزیں فروخت کرتی ہے۔ اس بچی کے والد ایک کار حادثے میں اپنا دماغی توازن کھوچکے ہیں۔ اس کے گھر میں اور کوئی محنت مزدوری کرنے والا نہیں ہے۔ ہمارا معاشرہ اس قسم کے لوگوں سے بھرا پڑا ہے۔ جس میں چھوٹے چھوٹے بچے بچیاں بکثرت ملتی ہیں، جو مختلف چیزیں کندھوں پر رکھے بیچنے کے لیے آوازیں لگاتے دیکھے جاسکتے ہیں، جو کوڑے کے ڈھیر میں اپنا رزق تلاشتے ہیں۔ حالاں کہ یہ وقت ان کے پڑھنے کا ہے، وہ بھی چاہتے ہیں کہ دوسرے بچوں کی طرح سکول جائیں۔ کھیلیں کودیں، مسکرائیں لیکن افسوس، اے بسا آرزو کہ خاک شدہ!
قارئین کرام! محتاجوں، غریبوں، یتیموں اور ضرورت مندوں کی مدد، معاونت، حاجت روائی اور دل جوئی کرنا دینِ اسلام کا بنیادی درس ہے۔ خالقِ کائنات نے امیروں کو اپنے مال میں سے غریبوں کو دینے کا حکم دیا ہے۔ صاحبِ استطاعت پر واجب ہے کہ وہ مستحقین کی مقدور بھر مدد کرے۔ جو لوگ معاشرے سے غربت و افلاس اور ضرورت و احتیاج دور کرنے کے لیے اپنا مال و دولت خرچ کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے خرچ کو اپنے ذمے قرضِ حسنہ قرار دیتے ہیں۔
میرے خیال کے مطابق ہر انسان کو ثواب حاصل کرنے کا موقع محل پہچاننا ضروری ہے، کہ کس وقت کون سا کام کرنے میں ثواب زیادہ ہے، اور اللہ کی رضا کا سبب ہے۔ مثلاً اگر کوئی شخص ایک مرتبہ فریضہئ حج و عمرہ ادا کرے، اور پھر وہ دوبارہ اس پر لاکھوں روپے خرچ کرتا ہے، تو اس سے بہتر یہ ہے کہ وہ اپنے عزیز و اقارب، اپنے پڑوس میں وہ لوگ تلاش کرے جو مفلسی کی وجہ سے دردر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔
اگر کوئی شخص مسجد تعمیر کرنے میں اور مسجدوں کو مزید مزین کرنے میں پیسے خرچ کرتا ہے، تو اس کو کسی حاجت مند اور لاچار لوگوں کی مدد بھی کرنی ضروری ہے۔ کیوں کہ صرف مسجد بنانے اور اس کو مزید مزین کرنے سے اللہ راضی نہیں ہوتا، بلکہ کسی غریب کے جسم کو ڈھانپنے اور اس کو پیزار پہنانے سے بھی راضی ہوتا ہے بلکہ اس پر زیادہ ثواب بھی ہے۔
قارئین، ذیل میں اس حوالہ سے ایک واقعہ نقل کیا جاتا ہے جو کتاب تذکرۃ الاولیاء سے اخذ شدہ ہے:
عبداللہ ابنِ مبارکؒ کا یہ معمول تھا کہ ایک سال حج کرتے اور دوسرے سال شریکِ جہاد رہتے اور تیسرے سال تجارت کرکے جو کچھ بھی نفع حاصل کرتے، وہ مستحقین میں تقسیم فرماتے۔ ان کا مشہور واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ آپ فراغتِ حج کے بعد بیت اللہ میں سوگئے اور خواب میں دیکھا کہ دو فرشتے باہم باتیں کررہے ہیں۔ ایک نے دوسرے سے سوال کیا کہ اس سال کتنے لوگ حج میں شریک ہوئے اور کتنے افراد کا حج قبول ہوا؟ دوسرے نے جواب دیا کہ چھے لاکھ لوگوں نے فریضہئ حج ادا کیا لیکن ایک فردکا بھی حج قبول نہیں ہوا، مگر دمشق کا ایک موچی جو حج میں شریک نہیں ہوا لیکن خدا نے اس کا حج قبول فرما کر اس کے طفیل میں سب کا حج قبول کیا۔ یہ خواب دیکھ کر بیداری کے بعد موچی سے ملاقات کرنے کے لیے دمشق پہنچے اور ملاقات کے بعد جب آپ کا نام پوچھا، تو آپ نے بتایا کہ عبداللہ ابنِ مبارکؒ ہوں۔ یہ سنتے ہی وہ چیخ مار کر بے ہوش ہوگیا، اور ہوش میں آنے کے بعد اس طرح اپنا واقعہ بیان کیا کہ بہت عرصہ سے میرے قلب میں حج کی تمنا تھی، اور مَیں نے اس نیت سے تین سو درہم بھی جمع کرلیے تھے، لیکن ایک دن پڑوسی کے یہاں سے کھانا پکنے کی خوشبو آئی، تو میری بیوی نے کہا کہ اس کے یہاں سے تم بھی مانگ لاؤ، تاکہ ہم بھی کھالیں۔ چناں چہ میں نے اس سے جاکر کہا کہ آج آپ نے جو کچھ پکایا ہے۔ ہمیں بھی عنایت کریں، لیکن اس نے کہا کہ وہ کھانا آپ کے کھانے کا نہیں ہے۔ کیوں کہ سات یوم میں، مَیں اور میرے اہل و عیال فاقہ کشی میں مبتلا تھے، تو میں نے مردہ گدھ کا گوشت پکالیا ہے۔ یہ سن کر میں خوفِ خداوندی سے لرز گیا اور اپنی تمام جمع شدہ رقم اس کے حوالے کرکے یہ تصور کرلیا کہ ایک مسلمان کی امداد میرے حج کے برابر ہے۔“
واللہ اعلم بالصواب!

اشتہار / Advertisement
اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔