سوات (باخبر سوات ڈاٹ کام) سوات کے مرکزی شہر مینگورہ سے دس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع گاؤں سلام پور جس کو اب کچھ لوگ اسلام پور کے نام سے جانتے ہیں، میں بھیڑ بکریوں کے اون سے ہاتھ کے کھڈوں کی مدد سے بنائے جانے والی رنگ برنگی چادریں تیار کی جاتی ہیں۔ گاؤں میں ماہانہ تین ارب روپے کا کاروبار ہوتا ہے۔ 25 ہزار آبادی پر مشتمل اس گاؤں میں 25 سو گھرانے ہیں جن کے زیادہ تر افراد اس صنعت سے وابستہ ہیں۔ پورے گاؤں میں چادریں بنانے کے ساڑھے پانچ ہزار کھڈے ہیں۔ کھڈا، زمین میں کھودا گیا وہ مخصوص قطعہ زمین ہے جہاں بیٹھ کر ہنر مند روایتی مشینوں سے چادریں تیار کرتے ہیں۔ہر کھڈے پر 3 سے 6 تک چادریں یا شال روزانہ کی بنیاد پر تیار ہوتے ہیں۔ اس حساب سے کہا جاسکتا ہے کہ گاؤں اسلام پور میں روزانہ پندرہ تا سولہ ہزار مختلف کوالٹی کی چادریں اور شالیں تیار ہوتی ہیں۔ ایک چادر یا شال کی قیمت 1000 سے لے کر 40 ہزار روپے تک ہے۔ یہ نرخ معمول کے مطابق ہیں۔ یہاں آرڈر پر تیار ہونے والی چادروں کی قیمت بسا اوقات 1 لاکھ روپے سے بھی متجاوز ہوتی ہے۔ اسی حساب سے گاؤں اسلام پور میں کم از کم 8 کروڑ روپے روزانہ کا کاروبار ہوتا ہے، اور ماہانہ دو ارب ستر کروڑ کی حد عبور کرتا ہے۔ کھڈے سے وابستہ لوگوں کی تعداد 40 ہزار سے زائد بنتی ہے، جس میں اسلام پور گاؤں، مینگورہ شہر اور آس پاس کے علاقوں کے دکان دار، خام مال لانے، تیار کرنے والے اور تیار مال واپس چھوٹی بڑی منڈیوں تک پہنچانے والے شامل ہیں۔ بالفاظ دیگر اسلام پور گاؤں کے ساتھ ضلع سوات کے 50 ہزار خاندانوں کی روزی روٹی وابستہ ہے۔ یہاں بھیڑ بکریوں اور اونٹ کے اون سے خصوصی گرم چادر”شڑے“ بھی تیار کی جاتی ہے جس کی قیمت عام گرم چادر سے زیادہ ہوتی ہے۔اسلام پور کاٹیج انڈسٹری ایسوسی ایشن کے صدر حاضر گل کے مطابق گاؤں میں دو قسم کے کھڈے ہیں۔ ایک تو روایتی کھڈے ہیں جن کے لیے باقاعدہ طور پر زمین کھودی جاتی ہے جب کہ دوسری قسم میں زمین کے اوپر مشین نصب کی جاتی ہے۔ اول الذکرکھڈا جگہ کم گھیرتا ہے جب کہ مؤخر الذکر زیادہ۔ دونوں قسم کے کھڈوں میں نصب مشینوں میں بعض میں دو گیئر لگے ہوتے ہیں اور بعض میں چار۔ دو گیئر والی روایتی مشین پر بنی چادر یا شال ہلکی ہوتی ہے جب کہ چار گیئر والی مشین کی چادر بھاری ہوتی ہے۔مردانہ چادروں کے اوپر بننے والے نقش و نگار جنھیں یہاں روایتی طور پر ”پھول“ کہتے ہیں، میں یہاں سوات کی قدیم روایات اور تہذیب کی عکاسی کی جاتی ہے۔ اس کے لیے عموماً چار سے لے کر چھے رنگ کے دھاگے استعمال ہوتے ہیں۔ تار سے چادر تیار کرنے کا عمل شروع ہوتا ہے۔گاؤں سلام پور کے بارے میں مشہور ہے کہ اس علاقہ میں کوئی شخص بے روزگار نہیں ہے۔ علاقہ کی70فیصد آبادی جن میں خواتین بھی شامل ہیں، اس صنعت سے وابستہ ہے۔ اس صنعت میں ہر شخص باروزگار ہے۔ گاؤں میں جو لوگ کام نہیں کرتے، ان کو گاؤں میں بے روزگار نہیں بے کار کہا جاتا ہے۔ ایک کھڈے میں کام کرنے والے عمر خالق نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ اس گاؤں میں اگر روزگار کی تلاش میں کسی اور علاقہ سے بھی کوئی شخص آتاہے، تو اس کو چند منٹوں میں کام مل جاتا ہے۔ اس گاؤں کی 70فیصد آبادی چادر بنانے کی صنعت سے وابستہ ہے۔ باقی30فیصد افراد میں زیادہ لوگ سرکاری محکموں میں نوکری کرتے ہیں جن میں زیادہ تعداد محکمہ پولیس میں ہے۔ سلام پور میں چادر بنانے کا کاروبار کب شروع ہوا اس کے بارے میں کسی کو علم نہیں۔ ایک ہنر مند نعمت خان نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ ان کے والد اور دادا بھی یہ کام کرتے تھے۔ ان کے دادا کے مطابق ان کے والد اور دادا بھی یہ کام کرتے تھے۔ سلام پور میں بنائے جانے والی چادروں کو ناموں کے بجائے نمبروں سے پہچانا جاتا ہے۔ سلام پور کی گرم چادروں میں لوگ48,52,64,72نمبر کی چادروں کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔ حاضر گل کے مطابق ڈالر کی قدر میں اضافے اور اون کی قیمتیں بڑھ جانے سے اب یہاں تیار ہونے والی چادروں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ سلام پور میں مرد و خواتین کی چادروں کے علاوہ اون سے پکول(روایتی ٹوپی)، واسکٹ اور مفلر بھی تیار کیے جاتے ہیں۔ سلام پور میں داخل ہوتے ہی لگ بھگ 70 دکانوں پر مشتمل ایک چھوٹا سا بازار آتا ہے۔ تمام دکانوں میں یہاں کا تیار شدہ مال سلیقے سے رکھا گیا ہوتا ہے، جسے دیکھتے ہی خریدنے اور زیب تن کرنے کو جی چاہتا ہے۔ پہلے لوگ سلام پور کی چادر خریدنے کے لئے اس بازار میں جاتے تھے، لیکن اب سلام پور کی چادریں مینگورہ اور پاکستان کے سرد علاقوں میں بھی ملتی ہیں۔ سلام پور گاؤں میں چادریں بنانے کا کام موسمِ گرما میں بھی ہوتا ہے۔ موسمِ گرما میں ان چادروں کی قیمتیں موسمِ سرما کے مقابلہ میں کم ہوتی ہیں۔ اس لئے سرد علاقوں کے بیوپاری موسم گرما میں لاکھوں، کروڑوں روپے کی چادریں خرید کر سٹور کرتے ہیں۔ موسمِ سرما میں ان کو فروخت کرکے زیادہ منافع کماتے ہیں۔ سلام پور کی چادریں پاکستان کے علاوہ دیگر سرد ممالک میں بھی فروخت ہوتی ہیں۔ اب یہ چادریں آن لائن شاپنگ کی ویب سائٹس پر بھی فروخت ہوتی ہیں۔ حکومتی سر پرستی نہ ہونے کی وجہ سے اس علاقہ میں یہ کاروبار مزید ترقی نہیں کر رہا۔گاؤں کے ہنر مند مزدور حکومتِ وقت سے اس حوالے سے شاکی ہیں۔ حکومتِ وقت کو چاہیے کہ یہاں کے ہنر مندوں کو بلا سود چھوٹے چھوٹے قرضے دے، مڈل مین کو بیچ میں سے نکال کر ہنرمندوں کے لیے مارکیٹ مہیا کرے۔ حکومت وقت یہ بھی کر سکتی ہے کہ خام مال ہنرمندوں کو دے اور پھر ان سے تیار شدہ مال اچھے داموں خرید کر برآمد کرے۔ یوں ایک طرف ان ہنر مندوں کا استحصال نہیں ہوگا، تو دوسری طرف اچھا خاصا زرِمبادلہ بھی حاصل ہوگا۔
Swat
