(باخبر سوات ڈاٹ کام)سوات میں ٹارگٹ کلنگ کے حالیہ واقعات کی وجہ سے لوگوں میں پھر سے خوف وہراس پیدا ہوگیا ہے اور پائیدار امن پر سوالات اٹھنا شروع ہوگئے ہیں۔ شہید پولیس اہلکار سے قبل شکردرہ میں علاقہ کے خان اور بین الاقوامی نیوز چینل میں کام کرنے والے صحافی حمید اللہ خان کے بھائی جاوید اللہ خان کو دن دیہاڑے شکردرہ پولیس چوکی کے قریب دو افراد نے قتل کیا اور فرار ہوگئے۔ اس سے پہلے آلہ آباد میں پاک فوج کے اہلکار کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے قتل کیا اور فرار ہوگئے۔ اس سے پہلے کانجو کے علاقہ دمغار میں ن لیگ کے رہنما اور سابق امیدوار فیروز شاہ ایڈووکیٹ کو اس وقت دو نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے قتل کیا جب وہ عشا کی نماز کے بعد مسجد سے نکل کر گھر جارہے تھے۔ وہ ملزمان بھی فرار ہوگئے۔ پچھلے کئی دنوں سے سوات میں قتل کی وارداتوں میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے جس میں کئی اندھے قتل سمیت تمام قتل کرنے والے ملزمان کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ پولیس نے باقاعدہ پریس ریلیز بھی جاری کی ہے، لیکن ٹارگٹ کلنگ میں قتل ہونے والے چار اہم افراد کے قاتلوں کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا جاسکا ہے۔
Swat
