Swat

کرغیزستان میں ہزاروں پاکستانی طلبہ محصور، کوئی پرسانِ حال نہیں

(باخبر سوات ڈاٹ کام) کرغیزستان میں پڑھنے والے دس ہزار سے زائد پاکستانی طلبہ جن میں سیکڑوں کی تعداد میں طلبہ کا تعلق خیبر پختون خواہ سے ہے، وہاں مکمل لاک ڈاؤن کی وجہ سے محصور ہوگئے ہیں۔کرغیزستان کے دارالخلافہ بشکیک میں سات میڈیکل یونی ورسٹیز ہیں، جہاں ہزاروں پاکستانی طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ کرونا وائرس کیسز کی وجہ سے کرغیزستان میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے تمام تعلیمی اداروں کو حکومت نے بند کیا ہے۔ ان یونی ورسٹیز میں موجود ہاسٹل طلبہ کے لئے ناکافی ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے بیشتر پاکستانی طلبہ اپنے لئے نجی کمرے یا ایپارٹمنٹ کرایہ پر حاصل کرتے ہیں۔ اس وقت ہزاروں پاکستانی طلبہ کرایہ کے اپارٹمنٹس میں رہائش پذیر ہیں۔ ہاسٹل سے باہر رہنے والے پاکستانی طلبہ کے مطابق لاک ڈاؤن کی وجہ سے ان کے ہاں راشن ختم ہورہا ہے۔ حکومت کوئی مداد نہیں دے رہی۔ بینکوں کی بندش کی وجہ سے پیسے نہیں منگواسکتے اورباہر جانے پر حکومت کی جانب سے سخت پابندی اور بھاری جرمانہ ہے۔ سوات کے رہائشی طالب علم ارسلان(فرضی نام) نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ طلبہ شدید اذیت اور نفسیاتی مسائل کاسامنا کررہے ہیں۔ کرغیزستان میں غیر ملکی طلبہ یونیورسٹیوں میں کنڑیکٹر کے ذریعے داخلہ لیتے ہیں اور کنٹریکٹر کے خلاف یا ان کی اجازت کے بغیر یہ طلبہ سوشل میڈیا پر اپنی فریاد نہیں دے سکتے۔جو طلبہ ایسا کرتے ہیں کنٹریکٹر ان کا یونیورسٹی میں داخلہ منسوخ کرتا ہے۔ایک طالب علم نے مشرق کو بتایا کہ موجودہ صورتحال میں کنٹریکٹر طلبہ کو دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ طلبہ اس حوالہ سے سوشل میڈیا سے دور رہیں، ورنہ ان کا داخلہ منسوخ کردیا جائے گا۔کرغیزستان میں محصور پاکستانی طلبہ کا کہنا ہے کہ بینکوں کی بندش کی وجہ سے ان کو گھروالے ماہانہ پیسے نہیں بھیج سکتے اور ان کے پاس موجود رقم ختم ہوچکی ہے۔ وہ بمشکل ایک وقت کا کھانا کھاتے ہیں جو کھانے کے قابل بھی نہیں ہوتا۔ طلبہ کے مطابق انہیں پاکستانی ایمبیسی سے بھی کوئئ خاطرخواہ مدد نہیں مل رہی۔ یونی ورسٹیز کی بندش اور باہر جانے پر پابندی سے طلبہ براہِ راست یونی ورسٹی انتظامیہ کے ساتھ بات نہیں کرسکتے۔ کرغیزستان میں محصور طلبہ کے والدین پاکستان میں پریشان ہیں۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ ان کی سوشل میڈیا پر گھر والوں سے باتیں ہوتی ہیں، تاہم جو ہم پر گزرتی ہے، وہ ہم ان کو نہیں بتا سکتے۔ طلبہ کے مطابق پاکستان سے کرغستان کے لئے کوئی ڈائریکٹ فلائٹ نہیں ہے۔ پاکستان سے ائیر عربیہ بذریعہ شارجہ اور امارات ائیر لائن بذریعہ دبئی جاتے ہیں، لیکن تمام ائر لائنز گراونڈ ہیں۔ طلبہ نے حکومتِ پاکستان اور وزیر اعظم عمران خان سے مطالبہ کیا ہے کہ پی آئے اے کی خصوصی پروازوں سے اپنے ان طلبہ کو نکال دیں، کیو ں کہ تمام طلبہ ذہنی مریض بن چکے ہیں۔

اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔