(باخبر سوات ڈاٹ کام) کورونا وائرس، لاک ڈاؤن اور قوتِ خرید کم ہونے کی وجہ سے دکانداروں کا کہنا ہے کہ اس سال ان کا کاروبار انتہائی خراب ہے۔ ایک بزاز ناصر اقبال نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ ہر سال عیدکے لئے پرچون دکاندار لاکھوں اور تھوک کا کاروبار کرنے والے کروڑوں روپے کا کپڑا ایک سے دو ماہ پہلے خریدتے ہیں۔ اس سال بھی ایسا کیا گیا لیکن اس سال کپڑے خریدنے والے عوام کا نام و نشان تک نہیں۔ انہوں نے کہاکہ اس بازار میں کپڑے اور درزیوں کی دکانیں ہیں، جس کی وجہ سے عید کے دنوں میں یہاں خریداروں کا رش ہوتا ہے۔ خریداروں میں کمی کی وجوہات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈالرکی قدر میں اضافہ کی وجہ سے کپڑا مہنگا ہوگیا ہے۔ کورونا اور لاک ڈاون سے لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں، یا ان کی آمدن میں کمی آئی ہے جس کی وجہ سے لوگ اخراجات کم کر رہے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ اس سال لوگ عید کے لئے خریداری نہیں کر رہے۔ درزیوں کا کہنا ہے کہ اس سال ان کا کام نہ ہونے کے برابر ہے۔ آل سوات ٹیلرز ایسوسی ایشن کے صدر عثمان علی میر خان خیل نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ عید سے ایک ماہ قبل درزیوں کی دکانوں پر ”ہاؤس فل“ کا بورڈ لگا ہوتا تھا۔امسال ہم لوگوں کی راہ تکتے ہیں کہ کوئی شخص کپڑے سلوانے آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہفتہ میں تین دن بازار بند رہتا ہے۔ بے روزگاری اور آمدن میں کمی کی وجہ سے لوگوں کی قوت خرید جواب دے گئی ہے۔عثمان علی کا کہنا تھا کہ اب درزی دکان کا کرایہ اور بجلی کا بل دینے کے بھی قابل نہیں رہا۔ کام نہ ہونے کی وجہ سے اکثر کاریگروں نے کام چھوڑ دیا ہے۔ ایک درزی شریف اللہ ماما نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ درزیوں کی دکانوں میں کام کرنے والے کاریگروں کو تنخواہ نہیں دی جاتی۔ ان کو فی جوڑے کے حساب سے پیسے دیے جاتے تھے۔ عید کے دنوں میں کاریگر معمول سے زیادہ پیسے کماتے تھے، لیکن موجودہ صورتحال میں بیشتر کاریگروں نے کام چھوڑ دیا ہے جن میں سے اکثر اب تعمیراتی کاموں میں یومیہ اجرت پر مزدوری کرتے ہیں۔
Swat
