(باخبر سوات ڈاٹ کام) عالمی یوم اساتذہ کے موقع پر سوات کے پہلے سکول گورنمنٹ ہائی سکول ودودیہ میں اپنی نوعیت کی انوکھی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ اس سکول سے 1997ء میں فارغ ہونے والے طلبہ میں سے کچھ نے”ودودین97“کے نام سے گروپ بنا کر اپنے کلاس فیلوز اور اساتذہ کے رابطہ نمبر جمع کرکے 23 سال بعد اکھٹا کیا۔ صبح گیارہ بجے کے وقت سکول کے گیٹ کے ساتھ اساتذہئ کرام اور طلبہ ایسے کھڑے تھے جس طرح بچے اپنے والدین سے اور والدین اپنے بچوں سے 23 سال بعد مل رہے ہیں۔ اس کلاس کے وہ طالب علم جو بیرونی ممالک میں مقیم تھے، وہ بھی ویڈیو لنک کے ذریعے اس تقریب میں موجود تھے۔ اساتذہ اور طلبہ ایک دوسرے سے بغل گیر ہورہے تھے۔ جب اساتذہ ہال میں داخل ہورہے تھے، تو ان پر پھولوں کی پتیاں نچاور کی گئیں اور ان کو ہار پہنائے گئے۔ تقریب میں شہید طالب علم کیپٹن عمران کے والد اور وفات پانے والے اساتذہ کے بچوں کو بھی بلایا گیا تھا۔ تقریب میں جو بھی استاد تقریر کے لئے آتے، تو ہال میں تمام افراد احتراماً کھڑے ہوجاتے۔ تقریب میں اساتذہئ کرام کو سابق طلبہ کی جانب سے اعزازی شیلڈ دئے گئے۔ دو طالب علم ایسے تھے کہ 23 سال پہلے ان کے والدین ان کے اساتذہ تھے۔ اس لئے انہوں نے اپنے ہاتھوں سے والدین کو شیلڈ دیئے۔ سکول کے سابق پرنسپل 84 سالہ سر زمین خان نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ یہ ان کی زندگی کا اہم ترین دن تھا جس میں انہوں نے 23سال پرانے شاگردوں اور سٹاف دوستوں سے ملاقات کی۔اس بیچ کے اس وقت کے طالب علم اور موجودہ اسسٹنٹ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سہیل سلطان نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ آج کا دن ان کی زندگی کا خوشگوار دن تھا، جس میں انہوں نے ان اساتذہئ کرام سے ملاقات کی جن کی وجہ سے آج وہ اس عہدے پر ہے ”ودودین 97“ نے تقریب کے اہتمام پر اساتذہئ کرام کے لئے پُرتکلف ظہرانے کا انتظام کیا تھا جس میں اساتذہئ کرام اور اس وقت کے طلبہ نے اکھٹے کھانا کھایا۔ عالمی یومِ اساتذہ کے موقع پر اس تقریب میں اس وقت دلچسپی کا سامان بڑھ گیاجب اس سکول کے ریٹائرڈ استاد خورشید احمد نے اپنی تقریر کے دوران سابق طلبہ سے مخاطب ہوکر کہا کہ آپ تو اپنے اساتذہ سے محبت کرتے ہیں، لیکن آپ کو یہ نہیں معلوم کہ اساتذہ آپ سے کتنی محبت کرتے ہیں جس کے بعد انہوں 23 سال پہلے اپنے شاگرد جو ہال میں موجود تھے، فرداً فردا ًسب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تمام سابق طلبہ کے نام لئے جس پر ہال میں موجود تمام سابق طلبہ نے کھڑے ہوکر کافی دیر تک تالیاں بجا کر ان کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ 1993ء کے اس بیچ کے ایک طالب علم شاہ نواز خان ایڈووکیٹ جس نے”ودودین 97“ بنانے میں اہم کردارادا کیا تھا، جب وہ تقریر کے لئے سٹیج پر آیا، تو اپنے اساتذہ کے سامنے بول نہیں پایا۔ صرف یہ کہا کہ میرے محترم اساتذہ آپ نے مجھے بولنا سکھا یا، جس کی وجہ سے آج میں ہائی کورٹ کے جج صاحبان کے سامنے گھنٹوں بولتا ہوں اور ان کے سوالات کا جواب دیتا ہوں، لیکن آج میں آپ کے سامنے بولنے سے قاصر ہوں۔ پُرنم آنکھوں کے ساتھ تقریر کئے بغیر ہال میں بیٹھ گیا۔ سکول کے سابق پرنسپل سرزمین خان نے اپنے خطاب میں ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت دیر سے آنے والے طلبہ کو سزا دی جاتی تھی۔ ایک دن اسمبلی ختم ہونے کے بعد دیر سے آنے والے ایک طالب علم کو ان کے دفتر میں پیش کیا گیا، جس کے ماتھے پر پٹی لگی ہوئی تھی۔ جب مَیں نے بچے سے پوچھا کہ دیر سے کیوں آئے ہو؟ تو اس نے کہا کہ وہ گر گیا تھا اور مرہم پٹی کے لئے ہسپتال گیا تھا۔ میں نے کہا ٹھیک ہے جاؤ کلاس میں۔ جب وہ روانہ ہوا تو وہاں موجود استاد سیف الرحمان نے طالب علم کو کہا کہ رک جاؤ اور مجھے کہا کہ یہ بہت بڑا کھلاڑی ہے۔ سکول کے ایک اہلکار کو کہا کہ اس کی پٹی کھول دو۔ جب اہلکار نے پٹی کھولی، تو وہ ٹھیک ٹھاک تھا۔ یہ کہانی سناتے وقت ان کو معلوم نہیں تھا کہ یہ کون سے سال کی بات ہے اور وہ طالب علم کون تھا؟اس دوران ہال میں موجود سابق طلبہ ایک اور طالب علم کوپکڑ کے لارہے تھے۔ وہ نہیں آرہا تھا۔ پھر مزید دوستوں نے ان کو پکڑ کر سٹیج کے سامنے کھڑا کرکے کہا کہ سر وہ یہ تھا۔ جس پر ہال قہقہوں سے گونج اٹھا۔ گورنمنٹ ہائی سکول ودودیہ ریاستِ سوات کا پہلا سکول تھا جس کو 1923ء میں ریاست کے پہلے بادشاہ میاں گل عبدالودود نے تعمیر کیا تھا۔ اس سکول کا پہلا ہیڈ ماسٹر پی ایچ ڈی سکالر تھا۔ ولی عہد سوات اور سابق گورنر بلوچستان و خیبر پختون خواہ مرحوم میاں گل اورنگزیب نے بھی ابتدائی تعلیم اس سکول سے حاصل کی تھی۔ یہ سکول اب بھی بہتر سرکاری سکولوں میں شمار ہوتا ہے۔ تین سال بعد 2023ء میں اس سکول کے سو سال مکمل ہو جائیں گے۔
Swat
