(باخبر سوات ڈاٹ کام) سوات کی تحصیل بریکوٹ میں 3ہزار سال پرانے شہر کے ساتھ والی پہاڑی بریکوٹ غونڈئی پر 13 سو سال پرانے مندر کے آثار دریافت ہوئے ہیں۔ پاکستان میں اٹلی کے آرکیالوجیکل مشن اور خیبر پختون خواہ کے محکمہ آرکیالوجی نے کھدائی کرکے اس کو دریافت کیا ہے۔ یہ ”وشتو مندر“ ہے جس کو 13 سو سال پہلے ہندوؤں نے سوات میں ”ہندو شاہی“ دور میں بنایا تھا۔ مندر کے پاس چھاؤنی اور واچ ٹاؤرز کے آثار بھی ہیں۔ اس جگہ پر ایک پانی کی ٹینکی بھی ہے، جس کے بارے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹینکی میں اس وقت کے لوگ بازیرہ شہر سے پانی کسی طریقے سے لاتے تھے۔ ہندو مذہب ماننے والے اپنی عبادت سے پہلے اس پانی سے اپنا وجود صاف کرتے تھے۔ آثارِ قدیمہ کا وسیع مطالعہ رکھنے والے فض خالق نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ سوات میں ہزاروں سال پرانے آثار موجود ہیں لیکن ہندو شاہی دور کے اس نوعیت کے آثار پہلی مرتبہ ملے ہیں۔ پاکستان میں اٹلی کے آرکیالوجیکل مشن کے سربراہ ڈاکٹر لوکا نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ پاکستان میں گندھارا تہذیب میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا مندرہے، جو دریافت ہوا۔اس سے پہلے گندھارا میں کسی وشنو مندر کی مثال نہیں ملی۔ یہ مندر مذہبی لحاظ سے ہندو مذہب ماننے والوں کے لئے انتہائی مقدس عبادت گاہ ہے۔سوات دنیا کے اُن ٹاپ20 علاقوں میں شامل ہے جہاں پر ہر قسم کی سیاحت موجود ہے۔ آثارِ قدیمہ کا مطالعہ رکھنے والے فضل خالق نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ سوات میں قدرتی سیاحت، مذہبی سیاحت، ثقافتی سیاحت، آثارِ قدیمہ کے حوالے سے سیاحت اور زرعی سیاحت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوات میں بدھ مت مذہب ماننے والوں کی سب سے مقدس عبادت گاہ بھی سوات میں ہے۔ اگر حکومت یہاں ہر قسم کی سیاحت پر توجہ دے، تو پاکستان اپنے سارے قرضے اس سے ختم کرسکتا ہے اور اس ملکی خزانے کو بہت زیادہ فائدہ ہوسکتا ہے۔
Swat
