(باخبر سوات ڈاٹ کام)صوبائی حکومت کی ہدایت پر صوبے کے تمام ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں ”ریجنل بلڈ سینٹر“ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بین الاقوامی طرز پر جدید لیب اور مشینوں سے آراستہ ریجنل بلڈ سنٹر نے پشاور اور سوات میں کام شروع کردیاہے۔ پشاور میں حیات آباد میڈیکل سنٹر اور سوات میں سنٹرل ہسپتال میں ان بلڈ سینٹرز نے کام شروع کردیا ہے۔ ریجنل بلڈ سینٹر کے انچارج ڈاکٹر سید مدثر شاہ نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ اس کا بنیادی مقصد مریضوں کو مکمل صاف خون کی منتقلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈونر جب اس سنٹر میں آئے گا، تو سب سے پہلے اس کا بخار چیک کیا جائیگا جس کے بعد ”ایچ ڈی“ ٹیسٹ(خون کی کمی) کا ٹیسٹ اسی وقت چند سیکنڈ میں کیا جائیگا،ساتھ ہی ڈونر کا وزن کیا جائیگا۔ کیونکہ پچاس کلوگرام سے کم وزن رکھنے اور 18سال سے کم اور50سال سے زیادہ ڈونر سے خون نہیں لیا جاسکتا۔ ڈونر کا بلڈ پریشر چیک کیا جائیگا اور اس عمل میں کامیابی کے بعد مریض سے اسکریننگ کے لئے خون لیا جائیگا۔ جدید لیپشاور، سوات، جدید آلات کے ساتھ ریجنل بلڈ سنٹرنے کام کا آغاز کر دیا
(باخبر سوات ڈاٹ کام)صوبائی حکومت کی ہدایت پر صوبے کے تمام ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں ”ریجنل بلڈ سینٹر“ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بین الاقوامی طرز پر جدید لیب اور مشینوں سے آراستہ ریجنل بلڈ سنٹر نے پشاور اور سوات میں کام شروع کردیاہے۔ پشاور میں حیات آباد میڈیکل سنٹر اور سوات میں سنٹرل ہسپتال میں ان بلڈ سینٹرز نے کام شروع کردیا ہے۔ ریجنل بلڈ سینٹر کے انچارج ڈاکٹر سید مدثر شاہ نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ اس کا بنیادی مقصد مریضوں کو مکمل صاف خون کی منتقلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈونر جب اس سنٹر میں آئے گا، تو سب سے پہلے اس کا بخار چیک کیا جائیگا جس کے بعد ”ایچ ڈی“ ٹیسٹ(خون کی کمی) کا ٹیسٹ اسی وقت چند سیکنڈ میں کیا جائیگا،ساتھ ہی ڈونر کا وزن کیا جائیگا۔ کیونکہ پچاس کلوگرام سے کم وزن رکھنے اور 18سال سے کم اور50سال سے زیادہ ڈونر سے خون نہیں لیا جاسکتا۔ ڈونر کا بلڈ پریشر چیک کیا جائیگا اور اس عمل میں کامیابی کے بعد مریض سے اسکریننگ کے لئے خون لیا جائیگا۔ جدید لیب میں اس کا ہپٹائس بی، سی، ایچ آئی وی اور ان امراض کا ٹیسٹ کیا جائیگا جو ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہوسکتے ہیں۔ ٹیسٹ ٹھیک ہونے کی صورت میں ڈونرسے خون لیا جائیگا۔اس سنٹر کے انچارج کے مطابق ایک مریض کے خون پر سات ہزار روپے سے زیادہ خرچہ آتا ہے، لیکن ہم مریض سے ایک روپیہ بھی نہیں لیتے۔ انتقالِ خون مع تمام ٹیسٹ مفت کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں پر تمام کام ”بار کوڈ“ کے ذریعے ہوگا جس کی وجہ سے غلطی کی کوئی گنجائش نہیں۔ ریجنل بلڈ سنٹر کے قیام سے اب ایک ڈونر کا خون تین مختلف مریضوں کو لگایا جائے گا۔ جدید مشینری سے خون کی بچت ہوگی۔ اس بارے ڈاکٹروں نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتا یا کہ اس سنٹر کے قیام سے پہلے ڈونر سے خون لیکر سالم خون مریض کو لگایا جاتا تھا، لیکن اب ڈونر کے خون کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائیگا۔ ایک ڈونر کے خون سے ریڈ سیل، پلازمہ اور پلیٹ لٹس کو الگ کیا جائے گا اور جس مریض کو جس خون کی ضرورت ہوگی، اس کو ڈاکٹر کی ہدایت پر وہی خون دیا جائے گا۔ باقی خون اس سنٹر میں رکھا جائے گا۔ایمرجنسی کی صورت میں تمام مریضوں کو موجود صاف خون چند منٹوں میں دیا جائے گا جس سے سنٹر میں ہر قسم کا خون وافر مقدار میں موجود ہوگا۔ ریجنل بلڈ سنٹر میں منفی80 ڈگری سنٹی گریڈ پر خون سات سال تک محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر سلطان احمد نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ ان کے پاس خون کو دیرپا رکھنے کے لئے جدید مشینیں ہیں، جن میں سے ایک جدید مشین میں ہم منفی 80سنٹی گریڈ پر خون کو سات سال تک رکھ سکتے ہیں۔ اس سنٹر میں روم ٹمپریچر کا انتظام بھی ہے اور سٹینڈ بائی جنریٹر لگے ہوئے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوات، چوبیس گھنٹوں میں چار بار زلزلے کے جھٹکے
(باخبر سوات ڈاٹ کام)سوات اور گرد نواح کے اضلاع میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 4 بار زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے۔ زلزلہ پیما مرکز کے مطابق پہلی بار ہونے والے زلزلے کی شدت 4.4، زیر زمین گہرائی 70 کلومیٹر، دوسری بار شدت4.3، گہرائی210کلومیٹر، تیسری بار شدت 4.8، گہرائی 125 کلومیٹر اور مرکز افغانستان اور تاجکستان کا سرحدی علاقہ تھا۔ چوتھی بار ہونے والے زلزلے کی شدت 4.3، زیرِ زمین گہرائی148کلومیٹر اور مرکز ہندو کش کا پہاڑی سلسلہ تھا۔ب میں اس کا ہپٹائس بی، سی، ایچ آئی وی اور ان امراض کا ٹیسٹ کیا جائیگا جو ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہوسکتے ہیں۔ ٹیسٹ ٹھیک ہونے کی صورت میں ڈونرسے خون لیا جائیگا۔اس سنٹر کے انچارج کے مطابق ایک مریض کے خون پر سات ہزار روپے سے زیادہ خرچہ آتا ہے، لیکن ہم مریض سے ایک روپیہ بھی نہیں لیتے۔ انتقالِ خون مع تمام ٹیسٹ مفت کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں پر تمام کام ”بار کوڈ“ کے ذریعے ہوگا جس کی وجہ سے غلطی کی کوئی گنجائش نہیں۔ ریجنل بلڈ سنٹر کے قیام سے اب ایک ڈونر کا خون تین مختلف مریضوں کو لگایا جائے گا۔ جدید مشینری سے خون کی بچت ہوگی۔ اس بارے ڈاکٹروں نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتا یا کہ اس سنٹر کے قیام سے پہلے ڈونر سے خون لیکر سالم خون مریض کو لگایا جاتا تھا، لیکن اب ڈونر کے خون کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائیگا۔ ایک ڈونر کے خون سے ریڈ سیل، پلازمہ اور پلیٹ لٹس کو الگ کیا جائے گا اور جس مریض کو جس خون کی ضرورت ہوگی، اس کو ڈاکٹر کی ہدایت پر وہی خون دیا جائے گا۔ باقی خون اس سنٹر میں رکھا جائے گا۔ایمرجنسی کی صورت میں تمام مریضوں کو موجود صاف خون چند منٹوں میں دیا جائے گا جس سے سنٹر میں ہر قسم کا خون وافر مقدار میں موجود ہوگا۔ ریجنل بلڈ سنٹر میں منفی80 ڈگری سنٹی گریڈ پر خون سات سال تک محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر سلطان احمد نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ ان کے پاس خون کو دیرپا رکھنے کے لئے جدید مشینیں ہیں، جن میں سے ایک جدید مشین میں ہم منفی 80سنٹی گریڈ پر خون کو سات سال تک رکھ سکتے ہیں۔ اس سنٹر میں روم ٹمپریچر کا انتظام بھی ہے اور سٹینڈ بائی جنریٹر لگے ہوئے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوات، چوبیس گھنٹوں میں چار بار زلزلے کے جھٹکے
(باخبر سوات ڈاٹ کام)سوات اور گرد نواح کے اضلاع میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 4 بار زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے۔ زلزلہ پیما مرکز کے مطابق پہلی بار ہونے والے زلزلے کی شدت 4.4، زیر زمین گہرائی 70 کلومیٹر، دوسری بار شدت4.3، گہرائی210کلومیٹر، تیسری بار شدت 4.8، گہرائی 125 کلومیٹر اور مرکز افغانستان اور تاجکستان کا سرحدی علاقہ تھا۔ چوتھی بار ہونے والے زلزلے کی شدت 4.3، زیرِ زمین گہرائی148کلومیٹر اور مرکز ہندو کش کا پہاڑی سلسلہ تھا۔
Swat
