(باخبر سوات ڈاٹ کام)سوات کی حسین وادی کالام اور بحرین کے سیکڑوں ہوٹل اور ہزاروں افراد 11 سال سے لینڈ لائن ٹیلی فون اور انٹرنیٹ سے محرو م ہیں جس کی وجہ سے عام لوگوں اور آنے والے لاکھوں سیاحوں کو اس سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کالام ہوٹلز ایسوسی ایشن کے صدر عبدالودود نے رابطہ پر باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ جون2010ء کے سیلاب کے بعد سے پی ٹی سی ایل کا ایکسچینج تاحال بند ہے۔ انہوں نے کہا کہ وادیِ کالام میں چار سو سے زائد ہوٹل ہیں۔ ہر ہوٹل کو لینڈ لائن فون اور انٹرنیٹ کی ضرورت ہے۔اس بارے ہم نے بار بار پی ٹی سی ایل حکام سے رابطہ کیا لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ بحرین ہوٹلز ایسو سی ایشن کے صدر حاجی معراج الدین نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ بحرین میں لینڈ لائن فون اور انٹرنیٹ کی اشد ضرورت ہے۔ اکثر سیاح اس لئے سوات نہیں آتے، کیوں کہ یہاں پر انٹرنیٹ کی سہولت موجود نہیں۔ کالام کے رہائشی اور سوات یونیورسٹی میں سو شیالوجی کے طالب علم عطاء اللہ نے رابطہ پر بتایا کہ کورونا کی وجہ سے ہمارا کام آن لائن تھا۔ کالام میں انٹر نیٹ نہ ہونے کی وجہ سے ہم مینگورہ جاکر کلاسیں لیتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نجی موبائل کمپنیوں کا ڈیٹا بہت کمزور ہے۔ اس سلسلے میں پی ٹی سی ایل اپر سوات کے ایک آفیسر نے رابطہ پر باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ ان کی لینڈ لائن اور انٹر نیٹ کی سہولت ابھی تک مدین تک ہی ہے۔ کمپنی کی کوشش ہے کہ کسی بھی طریقے سے بحرین اور کالام تک لینڈ لائن اور انٹرنیٹ کی سہولیات پہنچا دے۔ کالام میں کراچی سے آنے والے ایک سیاح فاروق عامر نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ کالام جنت نظیر وادی ہے۔ اب سڑک بھی بہتر ہے لیکن انٹرنیٹ کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے ہم ایک دن گزار کر واپس جارہے ہیں۔ ہم پانچ دن کے لئے کالام آئے تھے۔
Swat
