Swat

خام مال کی قیمتوں میں اضافہ، صندوق(ٹرنک) کا کاروبار متاثر

(باخبر سوات ڈاٹ کام) خام مال کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پشاور، مردان اور سوات سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں جستی چادروں سے صندوق (ٹرنک) کے کام کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ٹرنک کا کاروبار کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اب وہ اپنا کاروبار ختم کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔ 1977ء سے ٹرنک کا کام کرنے والے نور البشر نے بتایا کہ آج سے تین سال پہلے جستی چادر 120 روپے کلو ملتی تھی، لیکن پاکستانی روپے کی قدر میں کمی اور ڈالر میں اضافے کی وجہ سے اب ایک کلو جستی چادر 260 روپے فی کلو گرام مل رہی ہے۔ اب ڈالر 170روپے تک پہنچنے کے بعد نیا آنے والا مال اس سے بھی مہنگا ہوگا۔ تین سال پہلے ایک ڈبا دستہ کی قیمت 70 روپے تھی، جو اَب 140 ہے۔ اس طرح کیل (رِپٹ) کی فی ڈبا قیمت 2 سو روپے سے6سو ہوگئی ہے، جس کی وجہ سے صندوق کی قیمت میں مزید اضافہ ہو جائیگا۔ ایک طرف لوگوں میں قوتِ خرید نہیں ہے اور دوسری طرف صندوق کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ سے بعض لوگوں نے اپنا کاروبار ختم کردیا ہے۔ بعض ختم کرنے والے ہیں۔جستی چادر سے بننے والے صندوق زیادہ تر بستروں کو محفوظ رکھنے، آٹا، چینی، چاول ذخیرہ کرنے کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ شادی بیاہ کے موقع پر لوگ ان میں بستر رکھ کر جہیز کے ساتھ سامان میں دیتے ہیں۔ٹرنک کا کاروبار کرنے والوں کا کہنا ہے کہ جستی چادر سے صندوق بنانے والا تمام سامان چین سے آتا ہے۔ چین میں تمام خریداری ڈالر کے عوض ہوتی ہے۔ پاکستان تک کا کرایہ بھی ڈالر میں دیا جاتا ہے۔ ڈالر کی قدر میں اضافے کی وجہ سے یہ سامان مسلسل مہنگا ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے اب ٹرنک کا کاروبار آخری سانسیں لے رہا ہے۔ٹرنک کا کاروبار کرنے والوں کا کہنا کہ پچھلے تین سالوں سے صندوق کی قیمتوں میں سو فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے اور اب بھی ہورہا ہے۔ نور البشر نے مشرق کو بتایا کہ سات فٹ کا صندوق 12 ہزار سے20 ہزار روپے تک فروخت ہوتا ہے۔ 6 فٹ کا صندوق 8 ہزار تا16 ہزار، 5فٹ کا صندوق4 ہزار تا8 ہزار اور آٹا، چینی، چاول محفوظ کرنے کا صندوق8 سو تا18سو روپے تک فروخت ہورہا ہے۔ ڈالر کی قدر میں اضافے کے ساتھ یہ قیمتیں مزید بڑھیں گی۔ٹرنک کا کام کرنے والے بیشتر کاریگر بے روزگار ہوچکے ہیں۔ یہ کام کرنے والے رحما ن غنی نے بتایا کہ ان کی دکان میں دس کاریگر کام کرتے تھے۔ اب کام نہ ہونے کی وجہ سے آٹھ کاریگروں کو انہوں نے فارغ کردیا ہے۔ چند دنوں میں وہ ایک اور کاریگر کو فارغ کرنے والے ہیں۔ اس طرح تمام دکانداروں نے 80 فیصد تک مزدوروں کو فارغ کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اب دکان اور گودام کا کرایہ دینے کے قابل نہیں ہوں۔ اس لئے اپنا کاروبار ختم کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔

اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔