(باخبر سوات ڈاٹ کام)سوات کے سب سے بڑے اور مرکزی شہر مینگورہ میں دو ہفتوں سے مردار، ضعیف، بیمار، کم عمر اور حاملہ جانوروں کی فروخت کا انکشاف ہوا ہے۔ مکان باغ مینگورہ میں پرانا مذبح خانہ دو ہفتے پہلے مسمار کیا گیا تھا۔ کیوں کہ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر تختہ بند میں بین الاقوامی طرز کا مذبح خانہ کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے، لیکن قسائیوں کا کہنا ہے کہ وہ مذبح خانہ دور ہے جس کی وجہ سے وہ وہاں نہیں جانا چاہتے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق دو ہفتے قبل جب سے پرانے مذبح خانہ کو مسمار کیا گیا ہے، اس کے بعد سے قسائی گھروں، گلیوں اور مویشی خانوں میں مویشیوں کو ذبح کرتے ہیں۔ انکشاف ہوا ہے کہ اس کا فائدہ اٹھاکر کچھ لوگ مردار، ضعیف، بیمار، کم عمر اور حاملہ مویشیوں کو ذبح کرکے بازار میں فروخت کرتے ہیں۔ قانون کے مطابق مذبح خانہ میں جانور ذبح کرنے سے پہلے محکمہ لائیو اسٹاک کا ڈاکٹر جانور کا معائنہ کرتا ہے اور ذبح ہونے کے بعد اس پر ایک مہر ڈاکٹر اور دوسری تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کی لگتی ہے، جس سے بازار میں خریدار کو پتا چلتا ہے کہ وہ جس جانور کا گوشت خرید رہے ہیں، وہ حلال ہے اور اس کا معائنہ ہوا ہے لیکن مذبح خانہ کی مسماری کے بعد کچھ لوگ مردار جانوروں کو ذبح کرکے بازار میں فروخت کرتے ہیں۔ محکمہ لائیو اسٹاک سوات کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سر بلند نے رابطہ پر باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ مذبح خانہ مسمار ہونے سے پہلے رات سے صبح تک ان کے محکمہ کے ڈاکٹر مذبح خانہ میں موجود ہوتے تھے۔ وہاں تمام جانوروں کا معائنہ کرکے قانون کے مطابق صحت مند اور ذبح کیے جانے کے قابل جانوروں کو ذبح کرنے کی اجازت دی جاتی۔ ذبح ہونے کے بعد ان پر مہرِ تصدیق ثبت کرتے لیکن مذبح خانہ کی مسماری کے بعد سے ہمیں معلوم نہیں کہ جانوروں کو کون اور کہا ذبح کررہا ہے۔ اس لئے اب دو ہفتوں سے ان کے محکمہ کے ڈاکٹر نہیں جاتے۔ انجمنِ قصابان ضلع سوات کے صدر حاجی خان طوطی نے رابطہ پر باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ نئے تعمیر شدہ مذبح خانے میں کچھ کام باقی ہے۔ کام مکمل ہونے کے بعد وہاں جانوروں کے ذبح کرنے کا سلسلہ شروع ہو جائیگا۔ اس سوال کے جواب میں کہ اب جانوروں کو گھروں میں ذبح کیا جاتا ہے، میں انہوں نے اس بات کی تصدیق کی۔ اس سوال کے جواب میں کہ مردہ، ضعیف، بیمار اور حاملہ جانوروں کو بھی ذبح کیا جاتا ہے، انہوں نے اس کو غلط قرار دیا اور کہا کہ کوئی مسلمان ایسا کیوں کرے گا؟ تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کے سپرنٹنڈنٹ فضل خانے نے رابطہ پر باخبر سوات ڈاٹ کام کو اس بات کی تصدیق کی کہ مذبح خانہ کی مسماری کے بعد ان کو نہیں معلوم کہ قصاب حضرات مویشیوں کو کہا اور کیسے ذبح کرتے ہیں۔ اک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تختہ بند میں کروڑوں روپے کی لاگت سے بین الاقوامی طرز کا مذبح خانہ تیار ہے اور اس میں کوئی کام با قی نہیں۔
Swat
