(باخبر سوات ڈاٹ کام)ملاکنڈڈویژن میں ٹیکس کے نفاذ کے معاملے پرسوات ٹریڈرز فیڈریشن کی کال پر تمام سیاسی جماعتوں تاجروں اوردیگرشعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں نے کل جماعتی گرینڈ جرگہ میں شرکت کی۔ کانفرنس میں سوات بھر کے تمام اپوزیشن جماعتوں کی صدور اور جنرل سیکرٹریوں کے علاوہ ٹریڈرز فیڈریشن، ہائی کورٹ بار، ڈسٹرکٹ بار، ہوٹل ایسوسی ایشن، ٹرانسپورٹ سوات چیمبر اور صحافتی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ کل جماعتی کانفرنس کے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق شرکا اجلاس نے واضح کیا کہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں اور اس وقت کے منتخب ممبران نے فاٹا اصلاحات میں ملاکنڈ ڈویژن کو قربانی کا بکرا بنا کر ملاکنڈ کی قبائلی حیثیت ختم کی۔ اس وقت کے ممبرانِ اسمبلی ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کے خلاف اس سازش میں برابر کے شریک ہیں۔ ممبرانِ مذکورہ ملاکنڈ ڈویژن بھر کے عوام کے مجرم ہیں۔ اس وقت کے ممبرانِ قومی و صوبائی اسمبلی سینٹ کو بھی آرٹیکل کے خاتمے کے مضراثرات سے آگاہ کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود بھی آرٹیکل کو ختم کیا گیا۔ آرٹیکل 247 کے خاتمے پر یہاں مختلف قسم کے ٹیکس لا گو کئے گئے، جس میں بجلی، گیس، فون اور دیگر اشیا شامل ہیں۔ اس کے ماننے کیلئے ہم کسی بھی صورت تیار نہیں۔ واضح رہے کہ 15 اکتوبر 2018ء ایف بی آر کے نوٹیفیکشن سے واضح ہے کہ جون 2023ء تک ہمیں ٹیکسز سے قانونی استثنا حاصل ہے۔ باوجود اس کے ٹیکس لگانے کا ہم کسی کو اجازت نہیں دیتے۔ حکمرانوں کو بخوبی معلوم ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن میں طالبانزیشن، فوجی آپریشن، خانہ بدوشی، سیلاب اور زلزلے کی تباہ کاریوں سے ہماری صنعت، تجارت، زراعت اورسیاحت سب کچھ تباہ وبرباد ہوکر رہ گیا ہے۔کیاملک کی بقا اورامن کی خاطر پناہ گزین بن کر ہمیں یہ صلہ دیاجاتاہے۔ ٹیکس لگانا توکیااس کانام بھی سننا گوارا نہیں کرتے اورنہ اس صورتحال کواپنی آنکھوں سے دیکھ ہی سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں اگرٹیکس لاگوکرنے کی زبردستی کوشش کی گئی، توہولناک نتائج برآمد ہونگے۔ اجلاس کے شرکا نے واضح کیا کہ ان گنت قربانیوں کے بعد امن قائم ہوا ہے۔ اگر اس ظالمانہ فیصلے کو واپس نہ لیاگیا، توحالات قابوسے باہرہوجائینگے۔ ملاکنڈڈویژن کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اورظالمانہ غیرقانونی ٹیکسز کے نفاذ سے بھیانک نتائج برآمد ہونگے۔
Swat
