کالم نگاری

صاف پانی کے لیے ترستا مینگورہ شہر

شفیق احمد

پانی قدرت کا اَن مول تحفہ ہے۔ انسان پانی کے بغیر زیادہ دن نہیں گزار سکتا۔ پانی زندگی ہے، پانی ہے تو جہاں ہے…… اور یہ قدرت کی نعمت ہے۔
ہماری زمین پر انسان، نباتات اور دیگر حیوانات وغیرہ ان سب کا وجود پانی کے دم ہی سے قایم ہے۔ آج کی دنیا میں ماحولیاتی آلودگی کے مسئلے نے پانی کو بھی متاثر کیا ہوا ہے…… جیسا کہ لوگوں کو زندہ رہنے کے لیے پانی (صاف پانی) درکار ہوتا ہے، اس مقصد کے لیے شہروں میں ’’واٹر پیوری فکیشن‘‘ کا مقام اب ہر اُس جگہ کے لیے ضروری سمجھا جا رہا ہے، جہاں لوگوں کی بڑی تعداد گزر بسر کرتی ہے…… یا وہ کسی خاص جگہ میں ملازمت کرتے ہیں
قارئین! پانی کی اہمیت کا وہاں اندازہ ہوتا ہے جہاں اسے قطرہ قطرہ کرکے جمع کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ قطرہ قطرہ دریا بنتا ہے…… اس طرح جہاں پانی کی کمی ہے، وہاں کے لوگ بہتر جانتے ہیں کہ پانی کے بغیر کیا مشکلات پیش آتی ہیں؟
کہا جاتا ہے کہ انسانی جسم کا دوتہائی حصہ پانی پر مشتمل ہے اور پانی اللہ کی دی ہوئی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت ہے۔حقیقت یہ ہے کہ پانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے اور اس کے بغیر زندگی کا تصور ممکن ہی نہیں…… لیکن افسوس کہ ہمارے شہر مینگورہ میں پینے کے لیے صاف پانی اور نکاسیِ آب کا مسئلہ پچھلے 30 سال سے ہے۔کسی بھی شخص نے اس مسئلے کے حل کی طرف توجہ نہیں دی۔ پائپ لائنیں (پلاسٹک کی)گندے نالوں میں بچھی ہوئی ہیں۔ ان گندے نالوں کی وجہ سے ڈھیر ساری بیماریاں بھی ہمارے شہر میں پھیلی ہوئی ہیں۔ مینگورہ شہر میں نہ نکاسی کا بندوبست ہے…… اور نہ صاف پانی کا۔ صبح صبح مجھے بار بار یہ چیز نظر آتی ہے کہ مینگورہ شہر میں خاص کر پانی کی بہت بے قدری ہو رہی ہے۔ میرا سفر مجھے ان جگہوں تک بھی لے جاتا ہے جہاں پانی کی کھل کر بے قدری ہو رہی ہوتی ہے ۔ اس صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے وہ کسی شاعر کا شعر یاد آجاتا ہے کہ
کسی کو پینے کا پانی بھی صاف دیتا نہیں
کسی کو دودھ کے اوپر جمی ملائی دے
صاف پانی ہی اس صدی کا تیل ہے اور ہمارا رویہ ابھی سے عرب شیخوں والا ہے۔ خداخیر کرے، ہمارے کنوئیں جلدی نہ خالی ہو جائیں۔ میری درخواست ہے حکومت کے اعلا عہدیداروں سے کہ جتنا جلد ہوسکے، اس شہر کو صاف پانی کا اعلان شدہ منصوبہ لایا جائے، تاکہ لوگ صاف پانی پی سکیں اور بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ نکاس کے لیے بھی ٹھوس اقدامات کیے جائیں اور پائپ لائنیں گندے نالوں سے اٹھائے جائیں، راستوں کے درمیان کھدائی نئی پائپ لائن بچھائی جائے، تو بہتر ہوگا۔ تاکہ پھر ایسے اشعار پڑھنے کو ملیں کہ
میں نے کچھ لفظ لکھے ہیں پانی پر
دریا تیرے شہر سے گزرے تو پڑھ لینا

اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔